انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 525

انوار العلوم جلدا ۵۲۵ سيرة النبي ال دماغ میں ملک گیری کے خیالات نہ تھے جو اپنا قبلہ توجہ خدا تعالیٰ کی وحدت کے قیام کو بنائے بیٹھا تھا۔ پھر کس جماعت کے خلاف یہ دیو ہیکل طاقتیں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں جو اپنی مجموعی تعداد میں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ اب ان تکالیف میں ایک قابل سے قابل حوصلہ مند سے حوصلہ مند انسان کا گھبرا جانا اور چڑچڑاہٹ کا اظہار کرنا اور بد خلقی دکھانا بالکل قرین قیاس ہو سکتا ہے لیکن ان واقعات کی بناء پر بھی عبداللہ بن عمرو بھی اللہ کہتے ہیں کہ آپ لمْ يُكُن فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا نہ بد خلق تھے نہ بد گو تھے ۔ اگر کہو کہ ایک جماعت ایسی بھی تو ہوتی ہے جس کے اخلاق بجائے تکالیف کے خوشی کے ایام میں بگڑتے ہیں تو خوشی کی گھڑیاں بھی آپ نے دیکھی ہیں۔ آپ خدا کے رسول اور اس کے رے تھے یہ کیونکر ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نا کام دنیا سے اٹھا لیتا وفات سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنے دشمنوں پر غلبہ دے دیا اور دشمن جس تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اسی سرع سرعت سے پیچھے ہٹنے لگا۔ قیصر و کسری تو بے شک آپ کی وفات ۔ اوفات کے بعد تباہ ہو ۔ اہ ہوئے اور آر آپ کے غلاموں کے ہاتھوں ان کا غرور ٹوٹا لیکن کفار عرب جماعت منافقین یہود و نصاری کے وہ قبائل جو عرب میں رہتے تھے وہ تو آپ کے سامنے آپ کے ہاتھوں سے نہایت ذلت سے ٹھوڑیوں کے بل گرے اور سوائے اس کے کہ طلبگار عفو ہوں اور کچھ نہ بن پڑا۔ اس بیکسی اور بے بسی کے بعد جس کا نقشہ پہلے کھینچ چکا ہوں بادشاہت کی کرسی پر آپ فروکش ہوئے اور سب دشمن پامال ہو گئے ۔ مگر باوجود ان فاتحانہ نظاروں کے ان ایام ترقی کی ان ساعات بہجت و فرحت کے عبداللہ بن عمرو بنی اللہ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ َسلَّمَ فَاحِشًا وَ لَا مُتَفَحِّشًا نبي کريم صلى الله عليه وسلم نه بد اخلاق تھے نہ بد گو۔ میں عبد اللہ بن عمرو کی شہادت سے بنا چکا ہوں کہ آنحضرت کو بدی سے کیسی ایک پاک دعا نفرت تھی اور بدی کرنا یا ہد خلق کا اظہار کرنا تو لگ رہا آپ بد کلامی اور بد گوئی بد تک سے محترز تھے اور باوجود ہر قسم کے عسرویر میں سے گزرنے کے کسی وقت اور کسی حال میں بھی آپ نے نیکی اور تقوی کو نہیں چھوڑا اور آپ کے منہ پر کوئی نازیبا لفظ کبھی نہیں آیا جو ایک عظیم الشان معجزانہ طاقت کا ثبوت ہے جو آپ کے ہر کام میں اپنا جلوہ دکھا رہی تھی۔ اب میں ایک اور ثبوت پیش کرتا ہوں کہ آپ بدی اور ظلمت سے سخت متنفر تھے اور آ۔ آپ کے دل کے ہر گوشہ میں نور ایمان متمکن تھا اور وہ ثبوت آپ کی ایک دعا ہے جو آپ کے دلی جذبات