انوارالعلوم (جلد 1) — Page 524
انوار العلوم جلد ! ۵۲۴ سيرة النبي ال زندگی کے حالات سے کون نہیں واقف مدینہ کے ابتدائی ایام سے کون بے خبر ہے ، کن شدائد کا آپ کو سامنا ہوا کن مشکلات سے پالا پڑا دوست و دشمن ناراض تھے ، رشتہ دار جواب دے بیٹھے، اپنے غیروں کی نسبت زیادہ خون کے پیاسے ہو رہے تھے ، ملنا جلنا قطعاً بند تھا ایک وادی میں تین سال محصور رہنا پڑا نہ کھانے کو نہ پینے کو جنگل کے درخت اور بوٹیاں غذا بنیں ، شہر میں آنا منع ہو گیا، پھر چمکتی ہوئی تلواریں ہر وقت سامنے نظر آتی تھیں، رؤساء سے قیام امن کی امید ہوتی وہ بھی مخالف ہو گئے ، بلکہ نوجوانوں کو اور اکسا اکسا کر رکھ دینے پر مائل کرتے رہے، باہر نکلتے ہیں تو گالی گلوچ تو کچھ چیزی نہیں پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے، اپنے رب کے حضور گرتے ہیں تو اونٹ کی اوجھڑی سر پر رکھ دی جاتی ہے ، حتی کہ وطن چھوڑ دیتے ہیں ، پھر وطن بھی وہ وطن جس میں ہزاروں سال سے قیام تھا اپنے جد امجد کے ہاتھوں سے بسایا ہوا شہر جس کو دنیا کے ہزاروں لالچوں کے باوجود آباد واجداد نے نہ چھوڑا تھا ایک شریروں اور بد معاشوں کی جماعت کے ستانے پر چھوڑنا پڑتا ہے مدینہ میں کوئی راحت کی زندگی نہیں ملتی بلکہ یہاں آگے سے بھی تکلیف بڑھ جاتی۔ ہے ، ایک طرف منافق ہیں کہ خود آپ کی مجلس میں آکر بیٹھتے ہیں اور بات بات پر سنا سنا کر طعنہ دیتے ہیں ، آپ کے سامنے آپ کے خلاف سرگوشیاں کرتے ہیں ، ممکن سے ممکن طریق پر ایذاء دیتے ہیں اور پھر جھٹ تو بہ کر کے عفو کے طالب ہوتے ہیں اپنے مہربان اہل وطن مکہ سے اخراج کے منصوبوں پر ہی کفایت نہیں کرتے جب دیکھتے ہیں کہ جسے ہم تباہ کرنا چاہتے تھے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے اور اب ایک اور شہر میں جا بسا ہے تو وہاں بھی پیچھا کرتے ہیں ، آس پاس کے قبیلوں کو اکساتے ہیں اور اپنے ساتھ شریک کر کے دگنی طاقت سے اسے مٹانا چاہتے ہیں ، یہود و نصاری اہل کتاب تھے ان پر کچھ امید ہو سکتی تھی وہ بغض و حسد کی آگ میں جل مرتے ہیں اور امی اور مشرک اقوام سے بھی زیادہ بغض و عناد کا اظہار کرتے ہیں، پڑھے ہوؤں کی شرارتیں بھی کہتے ہیں پڑھی ہوئی ہوتی ہیں انہوں نے نہ صرف خود مقابلہ شروع کیا بلکہ دور دور تک آپ کی مخالفت کا بیج ہونا شروع کیا نصاری بدحواس ہو کر قیصر روم کی چوکھٹ پر جبین نیاز گھنے گئے تو یہود اپنی سازشوں کے پیٹھ ٹھونکنے والے ایرانیوں کے دربار میں جا فریادی ہوئے کہ اللہ اس اٹھتی ہوئی طاقت کو دباؤ کہ گو بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے مگر انداز کے دیتے ہیں کہ چند ہی سال میں تمہارے تختوں کو الٹ دے گی اور عنان حکومت تمہارے ہاتھوں سے چھین لے گی۔ یہ سب ستم و قہر کسی پر تھے ایک ایسے انسان پر جو دنیا کی اصلاح اور ترقی کے سوا کوئی اور مطلب ہی نہ رکھتا تھا جس کے کسی گوشت