انوارالعلوم (جلد 1) — Page 526
انوار العلوم جلدا ۵۲۶ سيرة النبي ا عليه کی مظہر ہے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ آپ صبح کی سنتوں کے بعد یہ دعا مانگتے ۔ اللَّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِى نُورًا وَ فِى سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِى نُورًا وَاجْعَلُ لِي نُورًا ( بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذا نتبه من اللیل ) یعنی اے اللہ میرے دل کو نور سے بھر دے اور میری آنکھوں کو نورانی کر دے اور میرے کانوں کو بھی نور سے بھر دے اور میری دائیں طرف بھی نور کر دے اور بائیں طرف بھی اور میرے اوپر بھی نور کر دے اور نیچے بھی نور کر دے۔ اور نور کو میرے آگے بھی کر دے اور پیچھے بھی کر دے۔ اور میرے لئے نور ہی نور کر دے۔ حضرت رت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم اللہ کو یہ دعا مانگتے۔ ہوئے سننے کا اتفاق مجھے اس طرح ہوا کہ میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن سویا جو رسول کریم کی ازواج مطہرات میں سے تھیں اور میں نے رسول کریم علی کو دیکھا کہ اس طرح دعا مانگتے تھے اور نماز پڑھتے تھے ۔ پس یہ دعا ایسے خلوت کے وقت کی ہے کہ جس وقت انسان اپنے خدا سے آزادی کے ساتھ اپنا حال دل عرض کرتا ہے۔ اور اگر چہ خدا تعالیٰ پہلے ہی سے انسان کے خفیہ سے خفیہ خیالات کو جانتا ہے پھر بھی چونکہ فطرت انسانی اسے عرض حال پر مجبور کرتی ہے اس لئے بہتر سے بہتر وقت جس وقت انسان کی حقیقی خواہشات کا علم ہو سکتا ہے وہ وقت ہے کہ جب وہ سب دنیا سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر میں اپنے رب سے عاجزانہ التجا کرتا ہے کہ میری فلاں فلاں خواہش کو پورا کر دیں یا فلاں فلاں انعام مجھ پر فرمادیں ۔ غرض کہ یہ دعا ایسے وقت کی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کے سوا آپ کا محرم راز اور کوئی نہ تھا اور صرف ایک نا بالغ بچہ اس وقت پاس تھا اور وہ بھی اپنے آپ کو علیحدہ رکھ کر چپکے چپکے آپ کے اعمال و حرکا کے اعمال و حرکات کا معائنہ کر رہا تھا۔ اب اس دعا پر نظر ڈالو کہ یہ کس طرح آپ کے تقوی اور ظہارت پر روشنی ڈالتی ہے۔ میں بتا چکا ہوں کہ آپ ہر ایک قسم کی بد کلامی و بدگوئی بداخلاقی اور بداعمالی سے پاک تھے اور یہی نہیں کہ پاک تھے بلکہ آپ کو بدی سے سخت نفرت اور نور اور نیکی اور تقوی سے پیار تھا اور یہی انسانی کمال کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ ہے یعنی وہ بدی سے بچے اور تقوی کی زندگی بسر کرے۔ ظلمت سے متنفر ہو اور نور سے محبت رکھے مگر اس حدیث سے پچھلی حدیث پر اور بھی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ پچھلی حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا تھا کہ آپ بدی سے متنفر تھے مگر اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ فعل بالا تھا عادتا نہ تھا اور یہ اور بھی کمال پر دلالت کرتا ہے۔