انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 510

انوار العلوم جلد ! ؟ ۵/۰ سيرة النبي ا ہے لیکن اس سے زیادہ اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا لیکن رسول کریم ا صرف اسی پر اکتفا نہ کر سکتے تھے آ۔ ، آپ ایک طرف تو کل لغویات الغویات کو کو مٹانا۔ مٹانا چاہتے تھے دوسری طرف آپ کے دل میں ما یہ جو جوش موجزن رہتا کہ خدا تعالٰی کے نام کی کثرت ہو اور ہر ایک مجلس اور مقام میں اسی کا ذکر کیا جائے اس لئے آپ نے بجائے ان بے معنی اشارات کے جن سے گو اشارة حصول مطلب ہو جاتا تھا ایسے الفاظ مقرر کئے کہ جن سے نہ صرف حصول مطلب ہوتا ہے بلکہ انسان کی روحانیت میں ازدیاد کا باعث ہے اور عین موقع کے مناسب ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کا ذکر بھی ہو جاتا ہے ۔ یا د رکھنا چاہئے کہ انسان جب کبھی کسی شے کی طرف توجہ کرتا ہے اسے ناپسند کرنے کی وجہ سے یا پسندیدگی کے باعث۔ تو ان دونوں صورتوں میں سبحان اللہ کے کلمہ کا استعمال نہایت با موقع اور با محل ہے ۔ اگر کسی انسان کے کسی فعل کو نا پسند کرتا ہے تو سبحان اللہ اس لئے کہتا ہے کہ آپ سے کوئی سہو ہوا ہے۔ سہو سے تو صرف خدا کی ہی ذات پاک ہے ورنہ ہر ایک انسان سے سہو ممکن ہے۔ اس مفہوم کو سمجھ کر آدمی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کوئی عمدہ کام کرے تو اس میں بھی سبحان اللہ کہا جاتا ہے جس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اللہ تعالی ہی تمام نقصوں سے پاک ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اسے بھی پاک ہی پیدا کیا ہے یہ کام جو کسی سے سرزد ہوا ہے یا یہ قول جو کسی کی زبان پر جاری ہوا ہے اپنی خوبی اور حسن میں خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور طہارت یاد دلاتا ہے جو تمام خوبیوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ غرض کہ سبحان اللہ کا کلمہ اس ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کے لئے توجہ دلائی جاتی ہے اور افسوس اور خوشی دونوں کا اظہار اس سے ایسی عمدگی سے ہوتا ہے جو اور کسی کلمہ سے نہیں ہو سکتا۔ پس اس کلمہ کے مقابلہ میں تالیاں بجانا اور سیٹیاں مارنا بالکل لغو اور بے فائدہ ہے اور ان لغو حرکات کے مقابلہ پر ایسا پاک کلمہ رکھ دینا رسول کریم کی ہی پاک طبیعت کا کام تھا ورنہ ہزاروں سال سے اس لغو حرکت کو روکنے کی کسی اور کے دل میں تحریک نہیں ہوئی ہاں صرف رسول کریم ہی ہیں جو اس نکتہ تک پہنچے اور آپ نے ایسے موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینے کی تعلیم دے کر ثابت کر دیا ہے کہ آپ ہر ایک موقع پر خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا پسند فرماتے اور اسی کا ذکر آپ کے لئے غذا تھا۔ عم اس که خدا واقعہ کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات ہیں : واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ چاہتے تھے خدا تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا جائے چنانچہ چھینک پر کھانا شروع کرتے وقت پھر ختم ہونے کے بعد “ سوتے وقت جاگتے وقت نمازوں کے بعد کوئی بڑا کام کرتے وقت وضو کرتے وقت غرضیکہ اکثر