انوارالعلوم (جلد 1) — Page 509
انوار العلوم جلدا ۵۰۹ سيرة النبي جواب دیا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریم کے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا ( ابو قحافہ ہوکر حضرت ابو بکر کے والد تھے) پھر آپ نے (لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹیں۔ جسے نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے اسے چاہیے کہ سبحان اللہ کہے کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو خود ہی اسکی طرف توجہ ہوگی اور تالیاں پیٹنا تو عورتوں کا کام ہے۔ اس حدیث سے اگر چہ اور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک امر کی طرف متوجہ کرتا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت کی تمام عمر کی کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہو سکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے ۔ خود تو جس طرح آپ ذکر میں مشغول رہتے اس کا حال میں بیان کر چکا ہوں مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ کی آمد کی اطلاع دینے کے لئے اگر صحابہ نے تالیاں بجا ئیں تو یہ ان کا ایک رواج تھا اور ہر ایک ملک میں اطلاع عام کے لئے یا متوجہ کرنے کے لئے لوگ تالیاں بجاتے ہیں آج کل بھی جلسوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی لیکچرار کی کوئی بات پسند آئے تو اس پر تالیاں پیٹتے ہیں تاکہ لوگوں کو توجہ پیدا ہو کہ یہ حصہ لیکچر خاص توجہ کے قابل ہے پس تالیاں بجانا اس کام کے لئے رائج ہے لیکن رسول کریم کی یاد الہی سے محبت دیکھو کہ آپ نے دیکھا کہ بعض دفعہ ضرورت تو ہوتی ہے کہ لوگوں کو کسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے پھر کیوں نہ اس ضرورت کے موقع پر بجائے اس بے معنی حرکت کے لوگوں کو اس طرف لگا دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات اور جوشوں کے اظہار کے لئے بجائے تالیاں بجانے کے سبحان اللہ کہہ دیا کریں۔ کم سے کم ایسے موقع پر ہی خدا کا ذکر ان کی زبان پر جاری ہو گا۔ یہ وہ حکمت و فلسفہ ہے جسے دنیا کے کسی رہنما اور ہادی نے نہیں سمجھا اور کوئی مذہب نہیں جو اس حکم کی نظیر پیش کر سکے کہ اس نے بھی بجائے لغویات کے لوگوں کو ایسی تعلیم کی طرف متوجہ کیا ہو کہ جو ان کے لئے مفید ہو سکے تالیاں بجانا بے شک جذبات انسانی کا ترجمان تو ہو سکتا ہے لیکن وہ ایسا ہی ترجمان ہے کہ جیسے ایک گونگے کے خیالات کا ترجمہ اس کے اشارات ہو جاتے ہیں کیونکہ تالیاں بجانے سے صرف اسی قدر معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی جوش ہے اور یہ اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہے یا یہ کہ کسی کو غلطی پر دیکھ کر اسے اس کی غلطی پر متنبہ کرنا چاہتا