انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 511

انوار العلوم جلدا ۵۱۱ سيرة النبي اعمال میں آپ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف خود ہی ذکر الہی میں زیادہ مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یا دالی میں مشغول رہیں جو کہ آپ کے کمال محبت پر دال ہے۔ میں نے بہت آدمی دیکھے ہیں کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعون بے سامان یا فخر اولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیاد ما فیھا ان کی نظروں میں حقیر ہو جاتی ہے ہے ؟ بڑے سے بڑے آدمی کی حقیقت کچھ نہیں جانتے بلکہ انسان کا تو کیا کہنا ہے خدا تعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادات ہم نے کی ہیں گویا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے اور وہ ہمارا ممنون ہے کہ ہم نے اس کی عبادت کی ورنہ اگر عبادت نہ کرتے تو وہ کیا کر لیتا جو لوگ اس طرز کے نہیں ہوتے ان میں سے بھی اکثر ایسے دیکھے گئے ہیں کہ عبادت کر کے کچھ تکبر ضرور آجاتا ہے اور بہت ہی کم ہیں کہ جو عبادت کے بعد بھی اپنی حالت پر قائم رہیں اور یہی نیکوں کا گروہ ہے پھر سمجھ سکتے ہو کہ نیکوں کے سردار اور نبیوں کے سر بر آوردہ حضرت رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہو گا۔ آپ تو گل خوبیوں کے جامع اور کل نیکیوں کے سرچشمہ تھے عبادت کسی تکبر یا بڑائی کے لئے کرنا تو الگ رہا جس قدر خدا تعالٰی کی بندگی بجالاتے اتنی ہی ان کی آتش شوق تیز ہوتی اور آپ بجائے عبادت پر خدا تعالیٰ کو اپنا ممنون احسان بنانے کے خود شرمندہ احسان ہوتے کہ الہی اس قدر توفیق جو عبادت کی ملتی ہے تو تیرے ہی فضل سے ملتی ہے۔ آپ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہے کچھ حصہ وقت جب عبادت میں گزارتے تو خیال کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس کام کی توفیق دی اس احسان کا شکر بجالانا ضروری ہے اس جذبہ ادائیگی شکر سے بے اختیار ہو کر کچھ اور عبادت کرتے اور پھر اسے بھی خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے کہ شکر بجالانا بھی ہر ایک کا کام نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا احسان نہ ہو ۔ پھر اور بھی زیادہ شوق کی جلوہ نمائی ہوتی اور پھر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جاتے اور یہ راز و نیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہو تا کہ بار ہا عبادت کرتے کرتے آپ کے پاؤں سوج جاتے صحابہ عرض کرتے یا رسول اللہ اس قدر عبادت کی آپ کو کیا حاجت ہے آپ کے تو گناہ معاف ہو چکے ہیں اس کا جواب آپ کی دیتے کہ پھر کیا میں شکر نہ کروں۔ ارم حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمُ لِيُصَلِّى