انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 508

انوار العلوم جلدا ۵۰۸ سيرة النبي ا اور بیماری میں خدا تعالی کا ذکر ہی آپ کی غذا تھا۔ اب میں ایک اور واقعہ یہاں درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ آپ جہاں تک ہو سکتا لوگوں میں خدا تعالیٰ کے ذکر کی عادت پیدا کرتے۔ حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلوةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ اَ تُصَلَّى لِلنَّاسِ فَأَقِيمُ قَالَ نَعَمْ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ النَّاسُ فِي الصَّلوةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَ كَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتْ فِي صَلُوتِهِ فَلَمَّا اَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ ا مُكُتْ مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللهَ عَلَيْهِ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ ابُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفّ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا أَبَا بَكْرِ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبت إِذا مَرْتُكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قَحَافَةَ أَنْ تُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِيَ ذَاتَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَا بَهُ شَيْئً فِي صَلُو تِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ التَّفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ( بخارى كتاب الآذان باب من دخل ليثوم الناس ، رسول کریم ا بنی عمرو بن عوف میں گئے تاکہ ان میں صلح کروائیں پس نماز کا وقت آگیا اور مؤذن حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپ بھی اللہ لوگوں کو نماز پڑھوائیں گے ۔ میں اقامت کہوں آپ نے جواب دیا کہ ہاں پھر حضرت ابو بکر نماز رت ابو بکر نماز کیلئے کھڑے ہوئے اتنے میں رسول کریم تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صرف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور پہلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو لوگ تالیاں پیٹنے لگے ( تا حضرت ابو بکر کو معلوم ہو جائے) لیکن حضرت ابو بکر نماز میں دوسری طرف کچھ توجہ نہ فرماتے جب تالیاں پیٹنا طول پکڑ گیا تو آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول کریم تشریف لائے ہیں رسول کریم اللہ نے آپ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھرے رہو اس پر حضرت ابو بکر نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس عزت افزائی پر خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور حمد کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں مل گئے اور رسول کریم اللہ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی ۔ سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ اے ابو بکر جب میں نے حکم دیا تھا تو پھر آپ بھی اللہ کو کونسی چیز مانع ہوئی کہ نماز پڑھاتے رہتے۔ حضرت ابو بکڑ نے