انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 507

انوار العلوم جلد ا ۵۰۷ سيرة النبي ابو بکر کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو ۔ پھر آپ کو وہاں لایا گیا اور آپ حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھ گئے اس کے بعد رسول کریم نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابو بکر نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور اور باقی لوگ حضرت ابو بکر کی نماز کی اتباع کرنے لگے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسی ہی خطرناک بیماری ہو خدا تعالٰی کی یاد کو نہ بھلاتے ۔ عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں اور نماز با جماعت اور دوسرے شرائط کی ادائیگی میں تو اکثر کو تاہی ہو جاتی ہے لیکن آپ کا یہ حال تھا کہ معمولی بیماری تو الگ رہی اس مرض میں کہ جس میں آپ فوت ہو گئے اور جس کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کو بار بار غش آجاتے تھے اٹھنے سے قاصر تھے لیکن جب نماز شروع ہو گئی تو آپ برداشت نہ کر سکے کہ خاموش بیٹھ رہیں اس وقت دو آدمیوں کے کاندھے پر سہارا لے کر بار جود اس کمزوری کے قدم لڑکھڑاتے جاتے تھے نماز با جماعت کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے۔ بے شک ظاہر یہ بات معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن ذرا رسول کریم کی اس حالت کو دیکھو جس میں آپے مبتلا تھے پھر اس ذکر الہی کے شوق کو دیکھو کہ جس کے ماتحت آپ نماز کے لئے دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائے تو معلوم ہو گا کہ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ آپ کے دل میں ذکر الہی کا جوش تھا اس کے اظہار کا ایک آئینہ تھا۔ ہر ایک صاحب بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکر الہی آپ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپ اپنی زندگی میں کوئی لطف نہ پاتے تھے۔ اسی کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جن چیزوں سے مجھے محبت ہے ان میں سے ایک قُرَةٌ عَيْنِي فِي الصلوۃ یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔ شریعت کے لحاظ سے آپ کا باجماعت نماز پڑھنا یا مسجد میں آنا کوئی ضروری امر نہ تھا کیونکہ بیماری میں شریعت اسلام کسی کو ان شرائط کے پورا کرنے پر مجبور نہیں کرتی لیکن یہ عشق کی شریعت تھی یہ محبت کے احکام تھے بے شک شریعت آپ کو اجازت دیتی تھی کہ آپ گھر میں ہی نماز ادا فرماتے لیکن آپ کو ذکر الہی سے ؟ سے جو محبت تھی وہ مجبور کرتی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو آپ ہر ایک تکلیف برداشت کر کے تمام شرائط کے ساتھ ذکر الہی کریں اور اپنے پیارے کو یاد کریں جب اس تکلیف کی حالت میں آپ کو ذکر الہی سے یہ وابستگی تھی تو صحت کی حالت میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ میں پیچھے لکھ چکا ہوں کہ رسول کریم کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق تھا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپ کے اندر ایک جوش پیدا ہو جاتا اور یہ کہ آپ کو خداتعالیٰ سے ایسی محبت تھی کہ تندرستی