انوارالعلوم (جلد 1) — Page 506
انوار العلوم جلدا سے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خوف ہو۔ ۵۰۶ سيرة النبي جس کام میں کسی حاکم کی ناراضگی کا خیال ہو ۔ لوگ اس کے کرنے سے بچتے ہیں لیکن اللہ تعالی کی ناراضگی کا کوئی خوف نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اس کی نافرمانی سے کچھ نقصان نہ ہو گا لیکن رسول کریم فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی ہی اصل ناراضگی ہے اور انسان کو چاہئے کہ نہ صرف گناہوں سے بچے بلکہ ان کاموں سے بھی بچے کہ جن کے کرنے میں شک ہو کہ یہ جائز ہیں یا ناجائز کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان کاموں کے کرنے پر ہلاک ہو جائے اور وہ اسے خدا تعالی کے رحم کے استحقاق سے محروم کر دیں ۔ خدا تعالیٰ کے نام پر یہ جوش اور اس قدر اظہار خوف و محبت ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں محبت الہی اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ ہر ایک انسان کی طاقت ہی نہیں کہ اس کا اندازہ بھی کر سکے۔ پچھلی مثال سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا الہی کے وقت آر وقت آپ ا کو کس ذکر الہی کی ترپ تقدر جوش آتا اور کس قدر محبت سے مجبور ہو کر آپ کے کلام میں خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔ اب میں ایک اور واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالٰی کی یاد کا نہایت ہی شوق تھا اور آپ عبادات کے بجالانے میں کما حقہ، مشغول رہتے تھے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھانے پر قادر نہ تھے اس لئے آپ نے حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ جب حضرت ابو بکر نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپ نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لئے نکلے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَّفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَا دَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ كَانِي أَنْظُرُ رِجَلَيْهِ تَخَطَّانِ الْأَرْضَ مِنَ الْوَجْعِ فَارَادَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَنَا خَرَ فَأَوْمَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ ثُمَّ أُتِيَ بِهِ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّى وَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّى بِصَلَاتِهِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةٍ أَبِي بَكْرٍ (بخاری کتاب الآذان باب ۔ اب الأذان باب حد المريض أن يشهد الجماعة ھتا کہ حضرت ابو بکر کو نماز پڑھا۔ کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی پس آپ نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جا رہے۔ ے کر لے جا رہے تھے اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے آپ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔ آپ کو دیکھ کر حضرت ابو بکر نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔ اس ارادہ کو معلوم کر کے رسول کریم ال نے