انوارالعلوم (جلد 1) — Page 452
انوار العلوم جلدا ۴۵۲ سيرة النبي باب دوم آپ اللہ کا حلیہ لباس اور کھانے پینے کا طریقہ نے کا طریقہ لکھنے کے بعد ۔ ، بعد مناسب سمجھتا ہوں کہ عادات اب کچھ آپ کی بعض عادات پر بھی لکھا جاوے ۔ ہر انسان کچھ نہ کچھ عادات کے ماتحت کام کرتا ہے ۔ ہاں بعض تو نیک عادات کے عادی ہوتے ہیں اور بعض بد کے۔ شریر اپنی شرارت کی عادتوں میں مبتلا ہوتا ہے تو شریف نیک عادات کا عادی۔ ہمارے آنحضرت ا کی ایک دو عادات جو میں اس جگہ بیان کرتا ہوں ان سے معلوم ہو گا کہ آپ کس قدر یمن و نیکی کی طرف متوجہ تھے اور کس طرح ہر معاملہ میں میانہ روی اختیار فرماتے تھے۔ آپ اس کو اللہ تعالیٰ نے انسان کامل بنایا تھا۔ تمام نیک جذبات آپ" میں نہی کا طریق پائے جاتے تھے اور ہر خوبی کو اپنے موقع اور محل پر استعمال فرماتے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس سے اللہ تعالیٰ کا کوئی خلق ضائع نہ ہو جائے ۔ بعض بناوٹی صوفیاء کا قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ وہ کچھ کچھ ایسے تکلفات اور مشقتوں میں اپنے آپ آپ کو کو ڈال ڈال ۔ لیتے ہیں کہ جس کی وجہ سے انہیں کئی پاک جذبات اور کئی طیبات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ بعض کھانے میں خاک ملا لیتے ہیں۔ بعض گندی ہو جانے اور سڑ جانے کے بعد غذا استعمال کرتے ہیں ۔ بعض سارا دن سر ڈالے بیٹھے رہتے ہیں اور ایسی شکل بناتے ہیں کہ گویا کسی ماتم کی خبر سنکر بیٹھے ہیں اور ہنسنا تو در کنار بشاشت کا اظہار بھی حرام سمجھتے ہیں۔ لیکن ہمارا سردار اللہ جسے خدا نے انسانوں کا ر ہنما بنایا تھا وہ ایسا کامل تھا کہ کسی پاک جذبہ کو ضائع ہونے نہ دیتا ہنسی کے موقع پر ہنستا رونے کے موقع پر رو تا خاموشی کے موقع پر خاموش رہتا اور بولنے کے موقع پر بولتا، غرض کوئی صفت اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی کہ جسے اس نے ضائع ہونے دیا ہو اور اپنے عمل سے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کی خدائی کو مٹانے نہیں بلکہ قائم