انوارالعلوم (جلد 1) — Page 453
انوار العلوم جلد 1 ۴۵۳ سيرة النبي الله کرنے آیا ہے اور یہی اس کی ادا ہے جو ہر طبیعت اور مذاق کے آدمی کو موہ لیتی ہے اور کچھ ایسی کشش رکھتی ہے کہ بے اختیار دل اس پر قربان ہوتا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ہنستے بھی تھے لیکن اعتدال سے اور ہنسی کے وقت آپ کی طبیعت پر سے قابو نہ اٹھتا بلکہ ہنسی طبعی حالت پر رہتی چنانچہ فرماتی ہیں کہ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكَاً حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهُوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمْ (اب) کتاب الادب باب القسم والضحك) یعنی میں نے رسول اللہ اللہ کو اس طرح گلا پھاڑ کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگ جائے بلکہ آپ صرف تبسم فرماتے تھے یعنی آپ کی ہنسی ہمیشہ ایسی ہوتی تھی کہ منہ نہ کھلتا تھا اور آپ افراط و تفریط دونوں سے محفوظ تھے۔ نہ تو نہنسی سے بکلی اجتناب تھا اور نہ قہقہہ مار کر ہنتے کہ جس میں کئی قسم کے نقص ہیں۔ آجکل تو میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان امراء میں یہ رواج ہو گیا ہے کہ وہ اس زور سے قہقہہ مارتے ہیں کہ دوسرا سمجھے کہ شاید چھت اڑ جائے گی اور اس طرح وہ آجکل کے پیر زادوں کی ضد ہیں۔ دائیں جانب کا لحاظ آنحضرت (فداہ نفس کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ ہمیشہ دائیں طرف کا لحاظ رکھتے۔ کھانا کھاتے تو دائیں ہاتھ ہے۔ لباس پہنتے تو پہلے دایاں ہاتھ یا دایاں پاؤں ڈالتے۔ جوتی پہنتے تو پہلے دایاں پاؤں پہنتے۔ غسل میں پانی ڈالتے تو پہلے دائیں جانب۔ غرض کہ ہر ایک کام میں دائیں جانب کو پسند فرماتے ۔ حتی کہ جب آپ کوئی چیز مجلس میں بانٹنی چاہتے تو پہلے دائیں جانب سے شروع فرماتے ۔ اور اگر اس قدر ہوتی کہ صرف ایک آدمی کو کفایت کرتی تو اسے دیتے جو دائیں جانب بیٹھا ہوتا۔ اور اس بات کا انتا لحاظ تھا کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حَلَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاءَ دَا جِن فِي دَارِي وَ شِيْبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِي فَاعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدْحَ مِنْ فِيْهِ وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيُّ فَقَالَ عُمَرُ وَ خَافَ أَنْ يَعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَكَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيُّ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنُ فَا لا يُمَنَّ التجريد بخاری باب في الشرب ) یعنی میں نے رسول اللہ الل کے لئے ایک بکری کا جو گھر میں رہتی تھی دودھ دوہا اور اس کے بعد دودھ میں اس کنویں سے پانی ملایا جو میرے گھر میں تھا۔ پھر رسول اللہ اللہ کو وہ پیالہ دیا گیا۔ اس وقت آپ کے بائیں جانب حضرت ابو بکر اور دائیں جانب ایک اعرابی تھا آپ نے اس میں سے تم