انوارالعلوم (جلد 1) — Page 443
انوار العلوم جلدا ۴۴۳ اخبار نفل کا پر اسپکٹس رکھی گئی ہے جب تک کہ خواجہ صاحب کے رسالہ کا انتظام مکمل نہ ہو جائے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ جاری تو ہو گا لیکن یہ نہ معلوم ہوا کہ کب۔ لیکن پر اسپکٹس سے معلوم ہوا کہ اس کا اعلان ہو چکا ہے گو کہ پہلے ایک سے زیادہ اخبار موجود ہیں لیکن ایک وقت میں دو اخبار کا نکالنا مناسب نہ جان کر حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں معاملہ دوبارہ پیش کر دیا کہ وہ اخبار بھی شائع ہو رہا ہے اس لئے اگر مناسب ہو تو فی الحال اسے بند رکھا جائے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح نے اس پر ذیل کی عبارت تحریر فرمائی ९९ مبارک ہے۔ کچھ پروانہ کریں وہ اور رنگ ہے یہ اور کیا لاہور اخبار بہت نہیں " نور الدین (دستخط) اس لئے فضل " ( جو نام کہ اس اخبار کا حضرت خلیفۃ المسیح نے رکھا ہے) کا پراسپکٹس بھی شائع کیا جاتا ہے اللہ تعالی پیغام صلح اور فضل دونوں کو جماعت کے لئے مفید اور بابرکت بنائے ۔ آمین ۔ یہ اشتہار مختلف جماعتوں کے سیکرٹریوں کے نام بھیجا جائے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ کسی ایسے موقعہ پر جب کہ جماعت کے سب احباب جمع ہوں اسے پڑھ کر سنا دیں تاکہ جماعت کے سب احباب اس سے آگاہ ہو جائیں۔ اور پھر دوسرے لوگوں میں اسے تقسیم کر دیں۔ اور چونکہ کم اشاعت کی صورت میں اخبار کو بہت نقصان پہنچتا ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے اس کی خریداری کے بڑھانے میں کوشاں ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہندو اخباروں اور عیسائی اخباروں کو مسلمان خریدتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اخبارات کو نہ خریدیں۔ لیکن میرے خیال میں اس امر کی طرف جماعت کے احباب کو پوری توجہ نہیں ہوئی اگر وہ اس طرف توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ چاہے تو اس میں بہت کچھ کامیابی ہو سکتی ہے کوئی اخبار اسی وقت اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے کہ کم سے کم تین ہزار خریدار اسے مل جائیں اور ایک ہزار خریدار میں تو اس کی چھپائی کے اخراجات مشکل سے چل سکتے ہیں۔ اعلیٰ مضامین کا حاصل کرنا اور مفید معلومات کا پیش کرنا اور بھی مشکل ہے اور اگر ہزار سے بھی کم ہوں تو خسارہ ہی خسارہ ہے۔ پس جس دوست تک یہ اشتہار پہنچے اگر پورے زور سے اس کی خریداری کے بڑھانے میں کوشش کرے تو جماعت میں سے ہی تین ہزار خریدار کامل جانا کچھ بڑی بات نہیں ۔ کیا چار لاکھ کی جماعت میں سے چار ہزار خواندہ آدمی جو اخبار خرید سکتے نہیں مل سکتا؟ ضرور مل سکتا ہے لیکن اول تو کوشش نہیں کی گئی دوم ان کوششوں کے ساتھ دعاؤں کی مدد نہیں لی گئی۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس اخبار میں دلچسپی لینے والے احباب دعائیں کرتے اور اللہ