انوارالعلوم (جلد 1) — Page 407
انوار العلوم جلدا ۴۰۷ خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ پھر اس کے بعد معزز ناظرین سنو کیا ہوا ۔ وہ جو شہزادوں کی زندگی بسر کرتا تھا جس کے پاس سات کروڑ نقد تھا اس کی بیوی اور اس کا بیٹا دشمن ہو گئے اور باپ نے اشتہار دیا کہ وہ ولد الزنا ہے۔ آخر اس پر فالج گرا۔ پھر غموں کے مارے پاگل ہو گیا آخر مارچ ۷ ۱۹۰ء میں بڑی حسرت و دکھ کے ساتھ (جیسا کہ خدا نے اپنے مامور کو پہلے اطلاع دی اور جیسا کہ حضرت اقدس نے ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء کے اشتہار میں شائع فرمایا تھا۔ ”خدا فرماتا ہے کہ میں ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہو گی۔ وہ تمام دنیا کے لئے ایک نشان ہو گا ۔ " ہلاک ہو کر خدا کے بچے بنی کی صداقت پر مہر لگا گیا یہ عیسائی دنیا ۔ پرانی دنیا اور نئی دنیا۔ دونوں پر حضور کی فتح تھی۔ پھر سنو ! اس ملک میں آریوں کا زور ہے ان کا زعیم لیکھرام تھا۔ رسالہ کرامات الصادقین مطبوعہ صفرا ۱۳۱ء میں یہ پیش گوئی درج کی کہ لیکھرام کی نسبت خدا نے میری دعا قبول کر کے مجھے خبر دی ہے کہ وہ چھ سال کے اند ر ہلاک ہو گا۔ اور اس کا جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے نبی اللہ کو گالیاں دیتا تھا اور برے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا۔ پھر ۲۲ فروری ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اس کے مرنے کی صورت بھی بتادی - عجل جَسَدُ لَهُ خُوَارُ لَہ نَصَبُ وَعَذَابِ یعنی لیکھرام گوسالہ سامری ہے جو بے جان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں اس لئے اسکو عذاب دیا۔ جائے گا جو گو سالہ سامری کو دیا گیا تھا اور ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گوسالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور دریا میں ڈالا گیا تھا۔ پھر ۲۔ اپریل ۱۸۹۳ء کو آپ نے ایک کشف دیکھا (دیکھو برکات الدعا کا حاشیہ) کہ ایک قوی مہیب شکل جو گویا انسان نہیں ملا ئک شداد و غلاظ سے ہے ۔ وہ پوچھتا ہے لیکھرام کہاں ہے ۔ پھر کرامات الصادقین کے اس شعر سے وَ بَشَرَنِي رَبِّي وَ قَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَ الْعِيْدُ أَقْرَبُ دن بھی بتا دیا یعنی عید سے دو سرے دن ہفتہ والے دن اور الا اے دشمن نادان و بے راہ تی بران محمد " پانچ پانچ سال پہلے شائع کر کے قتل کی صورت بھی بتادی۔ آخر لیکھر ام ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل کیا گیا۔ اور سب نے متفق اللفظ مان لیا کہ یہ پیش گوئی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر اسلام کے لئے حجت نے ناطقہ ٹھری۔ بترس از اسی طرح قادیان کے آریہ تھے ۔ جنہوں نے خدا کے مرسل کو دکھ دینے اور بد زبانی کرنے میں ینے اور بد زبانی کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا تھا۔ اور ان میں سے ان کے اخبار شبجھ چنتک (جس کے ذریعے یہ غلط فہمیاں