انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 372

انوار العلوم جلدا ۳۷۲ مدارج تقوی ہے۔ طاعون کیوں بھیجا ایسے لوگ احمق ہیں اور طبائع کا علم نہیں رکھتے۔ اگر بچہ پیسہ لے کر بھی مدر سے نہیں جاتا تو اب اسے مار کر بھیجنا باپ کا ظلم نہیں۔ اگر کوئی شخص کنویں میں چھلانگ مارنے لگے۔ اور ایک دوسرا آدمی اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دے تو وہ ظالم نہیں بلکہ رحیم ہے۔ جب دونوں قسم کی طبیعتیں ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں نافرمانی کرنے والوں کو ڈر نہ دلائے ۔ اگر دس آدمی جنت میں جائیں گے تو غالبا ان میں پانچ ایسے ہوں گے جو خوف الہی کی وجہ سے نیک ہوئے اور اس لئے دوزخ سے بچ گئے ہیں پس اگر تخویف کا پہلا درجہ ترک کر دیا جا تا تو شاید نصف جنتی جنت حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ۔ رسول کریم ال کے بارے میں لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (الغاشیہ : ۲۳) آیا ہے ۔ مگر میں تو کہا کرتا ہوں کہ کاش رسول کریم ا ہم پر داروغه ہوتے تو لوگوں کا اکثر حصہ جہنم میں پڑ جانے سے بچ جاتا۔ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اس قدر تمہید کے بعد میں ان آیات کے معنے کرتا ہوں قتل يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اے میرے پیارے رسول کہدو۔ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ۔ يُعِبَادِ کہنے میں جو لطف ہے اس پر میں زور دیتا ہوں۔ کیونکہ شاید سب لوگ نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ مجھے بچپن سے شاعرانہ مذاق رہا ہے۔ اس لئے میں اس کا خوب مزا حاصل کرتا ہوں۔ جن میں ذرا بھی محبت کا مادہ ہے وہ اس طرز خطاب کی لذت سے خوب آشنا ہیں۔ اس دنیا کے فانی محبوبوں کی طرف سے عشاق آرزو کیا کرتے ہیں کہ کاش وہ ہمیں اپنی گلی کا کتا ہی کہہ دے کوئی گالی ہی دیدے۔ تو اس محبوب حقیقی سے جو حسن و احسان کا سرچشمہ ہے یا عِبَادِ میں جو محبت کی چاشنی ملی ہوئی ہے اسے کچھ وہی دل سمجھ سکتے ہیں جو اس کو چہ سے آشنا ہیں۔ الَّذِينَ آمَنُوا پھر يَا عِبَادِ ہی نہیں کیا بلکہ فرمایا الذین امنوا یعنی اے وہ ہندو جو اس بات کے مدعی ہو کہ مجھ پر ایمان رکھتے ہو یا د رکھو کہ صرف دعوی کوئی چیز نہیں۔ پس ایمان ایک دعوی ہے اس کے ساتھ عمل بھی چاہئے ۔ اور جو زبانی دعوی کرتا ہے مگر عمل نہیں کرتا۔ اس میں اور پاگل میں کچھ فرق نہیں۔ آپ ایک پاگل خانہ میں جا کر دیکھیں وہاں بھی وہی نظارہ نظر آئے گا۔ میں گیا تو ایک پاگل کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں بادشاہ ہوں، مہدی ہوں میں ساری دنیا کو فتح کر لوں گا۔ پھر ایک اور پاگل کو خلیفہ المسیح نے دیکھا کہ کنکروں کا ڈھیر آگے لگا کر بیٹھا ہے اور اپنے تئیں خزانوں کا مالک سمجھ کر کہہ رہا ہے کہ تم لاکھ لے جاؤ ۔ تم دس لاکھ لے جاؤ ۔ اب ان پاگلوں اور اس شخص میں کیا فرق ہے جو مؤمن ہونے کا مدعی ہے مگر عمل مؤمنوں والے نہیں