انوارالعلوم (جلد 1) — Page 371
انوار العلوم جلدا ۳۷۱ مدارج تقوی کے منہ سے سنا۔ دیکھو دہلی میں دربار ہوا۔ بادشاہ سلامت نے جو کچھ فرمایادہ اخباروں کے ذریعے کئی کانوں تک پہنچ گیا۔ مگر جو لذت ان لوگوں کو آئی ہو گی جنہوں نے خود بادشاہ کے منہ سے سنا ا وہ ان لوگوں کو نہیں آسکتی جنہوں نے اخباروں میں پڑھا۔ پھر بھی میں دیکھتا ہوں کہ قرآن مجید ایسا مجید ابر پاک اور مؤثر کلام ہے کہ تیرہ سو برس گزر جانے پر بھی اپنے اندر ایک ایسی لذت رکھتا ہے کہ پاک دل مؤمن تو متوالے ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تین باتوں پر بہت زور ہے ۔ اول تو یہ کہ اللہ ایک جامع جمیع صفات کاملہ کل عیبوں اور نقصوں سے منزہ ہستی ہے اور وہ ہی وہ ہے اور کچھ بھی نہیں (دوم) اس کے مقابلہ میں تمام مخلوقات بلکہ اشرف المخلوقات انسان تک پیچ ہے اور ناکارہ اور حاجتمند ۔ اس کی مہربانیوں کا محتاج ہے۔ پس انسان کو چاہئے کہ اس کا ہو کر رہے اس سے پیار اس سے محبت رکھے۔ اور (سوم) چونکہ سب ایک ہی خدا کی مخلوق ہو اس لئے آپس میں محبت کرو۔ جن چیزوں میں ذرا بھی مشابہت یا مناسبت ہو ان کی آپس میں الفت ہو جاتی ہے۔ حضرت محی الدین ابن عربی نے دیکھا کہ ایک کو ا اور کبوتر اکٹھے بیٹھے ہیں وہ حیران ہوئے کہ ان کا کیا جوڑ ہے۔ کوئی ہم میں سے ہوتا تو خیال بھی نہ آتا۔ اور آتا بھی تو یہ کہتے ہوئے آگے گزر جاتا کہ کون اپنا وقت ضائع کرے۔ مگر وہ بھی اپنی نظیر آپ تھے وہیں ٹھر گئے اور دیکھتے رہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان دونوں کے پر ٹوٹے ہوئے ہیں اور اسی مناسبت سے وہ اکٹھے بیٹھے ہیں۔ پس ہم لوگ بھی جب سب خدا کے ہیں تو کیوں لڑیں ، جھگڑیں۔ کیوں نہ آپس میں محبت رکھیں ۔ ایک ہی بادشاہ کی رعایا ہو کر لڑائی کیسی ؟ اللہ کی عظمت جلال ، جبروت پر ایمان اپنے نفس کی اصلاح ، آپس میں بنی نوع انسان کا محبت و پیار یہ نچوڑ ہے تعلیم قرآنی کا اور اسی کو اعلیٰ سے اعلیٰ مختلف پیرایوں میں ذکر فرماتا ہے۔ اور اس نصیحت و ہدایت پر عمل کرانے کے ہدایت کے دو طریق ہیں۔ احسان یا عتاب در طریق ہیں۔ انعام و عقاب باپ اپنے بیٹے کو پہلے تو کہتا ہے کہ لو یہ پیسہ لو اور مدرسے جاؤ لیکن اگر پیسہ لے کر نہیں جاتا تو پھر اسے باوجود پیار کے تھپڑ مارتا ہے۔ یہ دو طریق اس لئے ہیں کہ بعض طبائع احسان سے مانتی ہیں اور بعض خوف سے ۔ اسی لئے قرآن شریف جو ہر قسم و ہر طبیعت کے لوگوں کو ہدایت سکھانے آیا ہے دونوں طریقوں سے کام لیتا ہے۔ احسان بھی جتاتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے۔ یعنی اگر احسان نہ مانو گے تو اللہ دُکھوں میں ڈال سکتا ہے۔ اگر مانو گے تو انعام پاؤ گے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ خدارحمن ورحیم ہے وہ پھر ایسا کیوں کرتا