انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 373

انوار العلوم جلد 1 ۳۷۳ مدارج تقوی کرتا۔ غرض جو صرف زبانی باتیں بنانے والا ہے وہ پاگل ہے۔ جس طرح پاگل کہتا ہے میں بادشاہ ہوں ، حکیم ہوں ، طبیب ہوں ، مهندس ہوں ، سلطان ہوں اور اس سے وہ بیچ بیچ بادشاہ وغیرہ نہیں بن جاتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص محض زبان سے کہتا ہے کہ میں مؤمن ہوں اور اس کے مطابق اس کے اعمال نہیں تو وہ ان انعامات کا وارث نہیں ہو سکتا جو مؤمن کے لئے مقرر ہیں۔ پس میرے دوستو! تمہیں پاگل خانہ دیکھنے کے لئے لاہور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ خود تمہارے گھر میں پاگل خانہ کا نظارہ موجود ہے۔ جو شخص کہتا ہے کہ میں مؤمن ہوں اور عمل ویسے نہیں کرتا وہ پاگل کی طرح ہی ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنے آ۔ اپنے آپ کو ایک ایسا درجہ دیتا ہے جس کا حقیقتاً وارث نہیں۔ اِتَّقُوا رَبَّكُمُ اپنے رب کا تقویٰ اختیا دی اختیار ار کرو۔ یہاں احسان و خوف دونوں یاد دلا دیتے ہیں۔ کس کا تقویٰ کرو۔ اپنے رب کا۔ زمین جس پر سوتے ہو وہ کس کی ہے ؟ اس رب کی۔ آسمان کو کس نے بنایا ؟ خدا نے ۔ آنکھوں میں نور کس نے بخشا ؟ خدا نے ۔ جس کے ذریعے ایک دوسرے کو پہچانتے رستہ دیکھتے اور کتابیں پڑھتے ہو پھر ہاتھ دماغ دل بھی اس نے بخشے جن چیزوں سے ہم کام لیتے ہیں پھر جن قوتوں سے ان کو استعمال میں لاتے ہیں وہ سب ہی رب کی دی ہوئی ہیں۔ تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ اس کے فرمانبردار رہیں؟ کہتے ہیں چور جس گھر پر کھانا کھالے وہاں چوری نہیں کرتا۔ حالانکہ چور ایسا ذلیل ہے کہ کوئی شریف آدمی اس کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کرتا تو پھر جس کا تم روز کھاتے ہو اسی کی نمک حرامی کرو تو اس چور سے بد تر ہو یا نہیں ۔ کان ، حلق ، زبان ، منہ“ پانی سب کچھ خدا کا دیا ہو مگر محبت کریں اوروں سے اور اپنے حقیقی محسن کو بھول جائیں۔ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے ۔ کیا لطیف نکتہ معرفت ہے اس حکایت میں جو میں نے پچھلے دنوں پڑھی کہ ابراہیم ادہم کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھ سے گناہ نہیں چھوٹ سکتے ۔ آپ نے فرمایا چھ باتیں بتاتا ہوں ان پر عمل کرو پھر بے شک گناہ کر لیا کرو (1) جب تو خدا کا گناہ کرے تو خدا کا بنایا ہوا رزق نہ کھا ئیو (۲) دو سرا یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو خدا کے ملک میں نہ رہو ۔ (۳) یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو خدا سے چھپ کر کیجئو (۴) چہارم یہ کہ اگر خدا کا گناہ کرنا ہے تو ملک الموت جب آوے تو کہنا کہ مجھے اتنی مہلت دو کہ میں تو بہ کرلوں۔ (۵) پنجم یہ کہ اگر وہ نہ مانے تو پھر منکر نکیر جب سوال کریں تو ان سے انکار کر دینا کہ میں تمہارے سوالوں کا جواب نہیں دیتا (۶) ششم یہ کہ جب تجھے دوزخ میں ڈالنے لگیں تو اڑ بیٹھنا کہ میں تو یہاں نہیں جاتا۔ اس نے عرض کیا کہ حضور یہ تو نہیں ہو سکتا۔ فرمایا پھر کیسی بے حیائی اور بے شرمی ہے کہ تو اسی کا رزق کھاتا ہے اس کی زمین پر رہتا ہے