انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 362

انوار العلوم جلد ، ۳۶۲ گوشت خوری جسم میں نہیں پہنچتی اور اس کے بغیر ان کی پرورش محال ہے پس انسان تو خیر انسان تھا پر میشور نے تو جانداروں کو ہلاک کر کے کھانے کا کام تو پوروں کے بھی سپرد کر دیا ہے۔ اب باوجود اس قدر دلائل کے کہ تمام حیوان اور بعض پودے اپنی جان کی حفاظت کے لئے دوسرے جانداروں کی ہلاکت پر مجبور ہیں یہ الزام لگانا کہ جانداروں کا ذبح کرنا ایک بڑا ظلم ہے خود ا ہے۔ اور ظلم ہے۔ جب ہماری زندگی کا دارو مدار کا دارو مدار ہی اس بات پر رکھا گیا ہے تو پھر یہ ظلم کیونکر ہو سکتا ہے ۔ جب یہ ظلم نہیں تو ہم اپنی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے بعض جانوروں کو مار سکتے ہیں اور جب مارنا ہی ظلم ثابت نہ ہوا تو گوشت کا کھانا تو پھر کسی صورت میں قابل اعتراض رہا ہی نہیں کیونکہ ذبح کردہ جانور کا گوشت ایک بے جان چیز ہے ۔ اس کے کھانے یا پکانے میں کسی قسم کے ظلم یا دکھ کا کچھ تعلق نہیں۔ کوئی شخص یہ اعتراض کر سکتا ہے جس قدر مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں تو انسان مجبوری سے یہ کام کرتا ہے اور گوشت کھانے کے لئے جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان میں نہ کوئی مجبوری ہے اور نہ اشد ضرورت اس کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں لیکن اب پھر لکھتا ہوں کہ مجبوری بے شک استثناء میں داخل ہوتی ہے لیکن ہم تو دیکھتے ہیں کہ اس ہلاکت کے فعل پر تمام کے تمام انسان قریباً ہر روز کسی نہ کسی طریق پر مجبور ہیں اگر یہ مجبوری اس قسم کی ہوتی کہ کروڑوں میں سے ایک آدمی برسوں میں ایک دفعہ اس فعل پر مجبور ہو جاتا تو ہم کہتے کہ تھا تو یہ ظلم لیکن مجبوری پیش آگئی کیا کیا جائے ۔ لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے ایک فعل کے کرنے پر ہم سب کے سب قریباً ہر روز مجبور ہوتے ہیں اب اسے ظلم کیونکر کہہ سکتے ہیں اتفاقی بات ہوتی تو خیر یہ بہانہ ہو سکتا تھا لیکن یہ رکاوٹ تو ہر انسان کے راستہ میں درپیش ہے اس لئے اس کو مجبوری کہہ کر ظلم نہیں کہہ سکتے۔ دوسرے جس قدر مثالیں دی گئی ہیں وہ سب کی سب مجبوری سے نہیں ہیں موتی ، مشک ، ریشم کا حصول اور چمڑے کا استعمال اس میں کوئی مجبوری نہیں لیکن ہزاروں ہیں جو گوشت کے استعمال کو برا کہتے ہیں اور ان چیزوں کا استعمال کرتے ہیں پھر جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں ایک دفعہ کے جماع میں کئی جانوں کا نقصان ہو جاتا ہے وہ کہاں کی مجبوری ہے۔ مذکورہ بالا دلائل کے علاوہ ایک بات اور خاص طور سے قابل غور ہے آریہ گوشت خور ہیں وہ یہ کہ خود پنڈ دیا نند اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھتا ہے ت ہے " جو نہایت درجہ کے تمو گنی ہیں وہ نہ چلنے والے درخت وغیرہ کا کیڑے مکوڑوں کا مچھلی ، سانپ کچھوے