انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 363

انوار العلوم جلد ! ۳۶۳ گوشت خوری مویشی اور مرگ ( جنگلی چوپائیہ ) کا جنم پاتے ہیں (صفحہ ۳۳۶)۔ اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ پورا اور درخت بھی وہی روح رکھتے ہیں کہ جو انسان میں ہے پھر جانور کے ذبح کرنے یا درخت کے کاٹنے یا اس کا پھل توڑنے یا کھیتی کو کاٹنے میں کیا فرق رہے گا جیسا دکھ ایک جانور کو ذبح کرنے سے اسے ہوتا ہو گا۔ ایسا بلکہ اس سے بھی زیادہ درخت یا اس کے پھل کے کاٹنے سے ہوتا ہو گا۔ کیونکہ جانور تو ایک منٹ میں ذبح ہو جاتا ہے اور درخت کو کاٹتے ہوئے بہت دیر لگتی ہے۔ پھر پھل کاٹنا یا شاخ کاٹنا تو اور بھی خطرناک ہے اور بالکل ایسا ہے جیسے ہم آدمی کی انگلیاں کاٹ دیں۔ یا ہاتھ پاؤں توڑ دیں پس اس صورت میں آریہ مسلمانوں کی نسبت زیادہ پاپ کماتے ہیں اور گوشت خوروں کی نسبت ان کو زیادہ خوف لگا ہوا ہے۔ اور جب ان اشیاء میں بھی جان ہے تو انسان اب کھائے کیا اور زندہ کس طرح رہے ؟ اب اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ جانداروں کے ذبح کرنے حرام حلال کی حقیقت کا کل پاپ نعوذ باللہ پرمیشور کے اپنے علم اور جبرسے ہے۔ اور آریہ ، بھی مسلمانوں یا دیگر اقوام کی طرح اس فعل میں شریک ہیں۔ میں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالی نے کوئی فعل حرام یا حلال کیوں قرار دیا ہے سو یا د رہے کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز حرام سبھی کی جاتی ہے کہ جب وہ عقل کے لئے ، جسم کے لئے اخلاق کے لئے یا روحانی قومی کے لئے مصر ہو اس کے سوا اللہ تعالیٰ کسی فعل کو منع نہیں کر تا خواہ وہ کھانے کا ہو، پینے کا ہو ، معاملات سے ہو عبادات سے ہو اور منع صرف اسی صورت میں کرتا ہے کہ جب مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط پائی جارے یا ایک سے زیادہ شرائط پائی جائیں۔ اسی طرح گوشت خوری کے متعلق جن جانوروں کا گوشت مذکورہ شرائط کے ماتحت آتا تھا ان کا مارنا منع کر دیا ۔ جیسے سور کا گوشت کھانا یا انسان کو مارنا کہ یہ کام اخلاق کیلئے اور روح کے لئے مضر ہیں اور جن جانوروں کا مارنا یا کھانا ان شرائط کے تحت نہ تھا ان کی نسبت منع نہیں فرمایا ۔ جس کا جی چاہے کھائے اور فائدہ اٹھائے۔ اس میں کیا شک ہے کہ جسم انسانی گوشت پوست ہڈیوں اور اعصاب وغیرہ سے بنا ہوا ہے اور اس کی اعلیٰ غذا رہی ہوگی جو ان اشیاء کی جن سے انسان مرکب ہے پرورش کرے۔ اور ایسی غذائیں اکثر حیوانات و نباتات میں پائی جاتی ہیں اور انسان کے لئے ضروری ہے کہ چن کر وہ غذائیں استعمال کرے جو اس کے لئے زیادہ مفید ہوں ادنیٰ سے ادنی پورا اور ادنیٰ سے ادنی حیوانات ان غذاؤں کو استعمال کرتے ہیں جو ادنی درجہ کی مرکب ہوتی ہیں۔ اور جوں جوں وہ نباتی یا