انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 10

انوار العلوم جلد 1 ۱۰ چشمه توحید اور ہر مذہب میں پیشگوئیاں ہیں کہ اس میں خدا کے مامور کی اور شیطان کی آخری جنگ ہوگی یہاں تک کہ پارسیوں میں بھی پیشگوئی ہے کہ آخر زمانہ میں جس کی فلاں فلاں نشانیاں ہوں گی۔ اہر من دیو یعنی شیطان اور یزداں (مراد ہے کہ یزدانی لوگ) کی آخری جنگ ہو گی اور شیطان بالکل قتل کر ڈالا جاوے گا۔ پس یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ لوگوں نے مال و زر کو اپنا معبود بنایا ہوا ہے اور گویا کہ خدا کا شریک ٹھرایا ہے۔ یہ وقت تھا کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کرتا کیونکہ وہ رحیم و آخری زمانہ کے مامور کی آمد کریم ہے اور اس نے ایساہی کیا ہے ۔ اور جیسا کہ نبیوں کے مامور ذریعہ سے خبر دی تھی اس وقت وہ شخص مامور ہوا ہے جس کے لئے مقدر ہے کہ وہ شیطان کے حربہ کو توڑے یعنی شرک کو دور کرے ۔ ہاں دنیا دیکھ لے گی کہ شرک کس طرح تباہ ہو گا۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دلوں سے شرک کو دور اب شرک کی بیخ کنی کا وقت ہے کریں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔ اور ہر وقت حضرت مرزاغلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود کا ہاتھ بٹانے کے لئے تیار رہیں جن کو خدا نے یہ کام سپرد کیا ہے ۔ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ مشرک لوگ ناک کے بل گرائے جائیں۔ دنیا کو شرک چھوڑنا پڑے گا خواہ وہ اپنی مرضی سے چھوڑے یا کوڑے سے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ مذہب عیسوی جو شرک میں حد سے بڑھا ہوا ہے۔ اور جس نے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو روپیہ اور مال کے زور زور سے سے ! اپنے دین میں شامل کر لیا ہے اب ا اس کے زوال کا وقت آگیا ہے ۔ تم اس کے مال و زر کو دیکھ کر حیران نہ ہو کیوں کہ اس وقت جب کہ اس کا نام و نشان نہ تھا خدا تعالیٰ نے سورہ زخرف میں ارشاد فرمایا تھا کہ اگر مجھ کو اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ دنیا اس کو دیکھ کر ہلاک ہو جائے گی تو میں رحمان کے منکروں یعنی عیسائیوں کو اس قدر مال دیتا کہ سونا چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے ۔ پس ڈرو نہیں یہ قرآن شریف کی پیش گوئی پوری ہوئی ہے۔ مگر اب وہ وقت ہے کہ عیسائیت کا بلند اور مضبوط منار گرا دیا جاوے ۔ یہ مذہب عیسوی کا قلعہ جس کی دیواریں لوہے کی تھیں اب گرنے کو ہے کیوں کہ اس کو زنگ لگ گیا ہے اور اب وہ اس قدر بود ا ہے کہ ایک ہی حربہ سے ٹوٹ جاوے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ بارانِ رحمت کے وقت لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے اور وہ کمزور اور بورا ہو جاتا ہے پس جب کہ روحانی باران رحمت کا نزول شروع