انوارالعلوم (جلد 1) — Page 9
انوار العلوم جلد ، شرک اکثر دور بھی ہو جاتا ہے ۔ ۹ چشمه توحید مگر زیادہ خوف کے قابل اور انسان کا دشمن شرک خفی ہے یعنی چھپا شرک خفی کی حقیقت شرک۔ ایسا شخص مانتا ہے کہ خدا ایک ہے اور پھر مشرک کا مشرک ہی ہے۔ وہ بتول توں کی پرستش اور دوسری چیزوں سری چیزوں کی پرستش کو بھی برا سمجھتا ہے مگر پھر بھی شرک کے مرض میں گرفتار ہے۔ وہ ایسا ہے جیسا کہ ایک مریض ایک سخت مرض میں گرفتار ہے اور پھر بھی علاج کرانے سے گریز کرتا ہے۔ حکیم اس کو دوائی دیتا ہے اور وہ حکیم کی عقل پر ہنستا ہے کہ میں تو اچھا بھلا ہوں۔ مگر افسوس کہ اگر اس کو چشم بصیرت ہو تو وہ سمجھے کہ میں حکیم پر ہنستا ہوں حالانکہ میری حالت ایسی ہے کہ اس پر رویا جارے ۔ پس ایسے شرک سے بچنے کے لئے سوائے اس کے کوئی علاج نہیں کہ خدا پر ہی کامل بھروسہ رکھا جاوے اور خشوع و خضوع سے دعا کی جاوے کہ یا الہی ہم کو اس مہلک مرض سے بچا۔ یہ شرک مختلف شکلوں کا ہوتا ہے جیسا کہ ایک شخص جو اپنے حاکم کے ڈر کے مارے اپنے عبادت کے وقتوں میں تساہل بے جا کرتا ہے ۔ یا خیال کرتا ہے کہ یہ حاکم اگر مجھ کو اس نوکری سے الگ کر دے تو میرا اور کوئی چارہ نہیں اور میں سخت مصیبت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ یا یہ کہ اگر فلاں شخص میری مدد نہ کرے گا تو میرا کام نہیں بنے گا۔ تو وہ شرک کرتا ہے اور گویا کہ خدا سے بڑھ کر اپنے حاکم سے ڈرتا ہے یا خدا کی مدد سے بڑھ کر کسی اور کی مدد پر بھروسہ کرتا ہے۔ پھر دوستی کے رنگ میں ہوتا ہے۔ بعض دفعہ انسان کسی دوست کے خوش کرنے کے لئے کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔ اور نہیں سمجھتا کہ خدا کا خوش کرنا مجھ پر زیادہ واجب ہے یہ نسبت اس دوست کے ۔ پس وہ شرک کرتا ہے اور پھر اولاد اور مال پر بعض دفعہ ایک انسان اتنا بھروسہ کر لیتا ہے یا اتنی محبت پیدا کر لیتا ہے کہ وہ شرک کے درجہ پر پہنچ جاتی ہے۔ پس ایسے شرک سے بچنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔ خدا سے دعائیں کرو اور خود کوشش کرو۔ کیوں کہ جو اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے وہ ناکام واپس نہیں آتا۔ جو اس کو پکارتا ہے اس کی سنی جاتی ہے۔ دیکھو آج کل کا زمانہ ایسا خوف ناک ہے کہ خیال کرنے سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔ اور ویسا ہی بلکہ بڑھ کر با برکت بھی ہے کہ سوچنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ یہ وہ وقت ہے کہ خدا کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے اور قریب ہے موجودہ زمانہ آخری زمانہ ہے کہ وہ دنیا کو ہلاک کر دے ۔ مگر ساتھ ہی وہ اس وقت خزانہ کھول کر بیٹھا ہے تاکہ جو سوال کرے وہ اپنے سوال سے بڑھ کر پاوے ۔ اس زمانہ کی نسبت ہر قوم