انوارالعلوم (جلد 1) — Page 357
انوار العلوم جلد ! ۳۵۷ گوشت خوری خوراک سے خورندہ کو شرف حاصل ہے (حجۃ الہند) اس کے علاوہ مہا بھارت وغیرہ کتب سے تو گوشت خوری کی عجیب کیفیت معلوم ہوتی ہے خود راجہ رامچندر شکار کرتے تھے اور بھون کر کھاتے تھے ۔ پس جبکہ اچھی طرح ثابت ہے کہ ست جگ میں جبکہ دنیا میں بدی کا نام و نشاں نہ تھا اور وید اتر رہے تھے۔ گوشت خوری جاری تھی۔ اور بعض تیوہاروں کے موقعہ پر فرض تھی۔ تو اس زمانہ میں نا معلوم آریہ صاحبان اس کے خلاف اس قدر کیوں زور لگا رہے ہیں۔ یا تو ویدوں کو اور اس زمانہ کے تمام لوگوں کو گندہ اور ناپاک قرار دیں یا اقرار کریں کہ گوشت خوری کے معاملہ میں جو ان کی رائے ہے وہ صرف کمزوری اور ضعف قلب کی وجہ سے ہے۔ اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ اگر گوشت خوری بری ہے تو ہندو مذہب بھی اس برائی میں مبتلا ہے اور خود دید اور منو شاستر جس کی عظمت کا اقرار پنڈت دیانند کر چکے ہیں اس پر شاہد ہیں اور اس رسم کے مؤید ہیں۔ میں ایک اور پہلو سے گوشت خوری کے مسئلہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ اول سوال یہ ہے کہ گوشت خوری بری کیوں ہے؟ گوشت خوری کیوں کیوں بری ہے ؟ اس کا جواب سوائے اس کے کیا ہے کہ بلا وجہ دوسری روحوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔ اور ان پر ظلم کیا جاتا جاتا ہے ہے پس معلوم ہوا کہ گوشت خوری اپنی ذات میں بری نہیں بلکہ اس لئے بری ہے کہ جس ذریعہ سے گوشت آتا ہے اس میں میں ظلم کا شائبہ ہے کیونکہ جب ایک جانور ذبح ہو چکا ۔ اس کے بعد اس کو کیا تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کو تکلیف تو تب تک تھی جب تک وہ ذبح ہو رہا تھا۔ ذریع ہو نے کے بعد وہ ایک جسم بے جان ہے۔ اس کے ٹکڑے کرو اور اس کی ہڈیاں ہیں دو جلا دو خاک کر کر دو دو اس میں اب تکلیف کا کوئی احساس باقی نہیں رہا جیسے پتھر لکڑی وغیرہ اشیاء بے حس ہیں ویسا ہی وہ جسم بے جان بے حس و حرکت ہے۔ پس ظلم گوشت کھانے میں نہیں۔ ظلم اس طریق حصول میں ہے جس سے گوشت انسان کو ملتا ہے۔ اور گوشت کھانے والا اس لئے ظالم ہے کہ یا تو وہ خود کسی روح کو تکلیف دیتا ہے یا اس کے باعث کسی روح کو تکلیف دی جاتی ہے کیونکہ اگر وہ گوشت نہ کھائے تو لوگ جانور ذبح بھی نہ کریں۔ غرض یہ کہ اصل میں برا جانور کا مارنا ہے نہ کہ کھانا۔ آریوں کو تو