انوارالعلوم (جلد 1) — Page 358
انوار العلوم جلدا ۳۵۸ گوشت خوری چاہئے کہ اس بات پر زور دیں کہ جانور ذبح نہ کئے جائیں نہ کہ اسبات پر کہ کھائے نہ جائیں۔ * دریائی شکار بغیر مارنے کے ملتے ہیں اور بہت سی قومیں مردہ مچھلی کھاتی ہیں۔ اس اصول کے ماتحت ان کا کھانا جائز ہوگا۔ اب جبکہ یہ ثابت ہو گیا کہ گوشت خوری میں بریچ بری چیز جانوروں کا قربانی ہی میں زندگی ہے؟ مارنا اذبح کرنا ہے۔ ہم تاتے ہیں کہ یہ سلسلہ خدا تعا اتعالی یا پر میشور کی طرف سے ہی لگا ہوا ہے اور کوئی جان زندہ ہی نہیں رہ سکتی جب تک کہ وہ اور جانوں کو اپنے لئے قربان نہ کرے اس لئے اس میں اگر کوئی ظلم ہے تو اس کا پیدا کنندہ خود پر میشور ہے۔ اور پر میشور کی طرف ظلم منسوب نہیں ہوتا۔ بلکہ جو بات خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جائے اور ثابت ہو جائے تو اس کو ہم رحم ہی قرار دیتے ہیں ۔ ہاں اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ کسی چیز کی وجہ سمجھ میں نہ آنے سے کسی مذہب پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مذہب کے لئے اتنا ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کر دے کہ فلاں بات خدا کی طرف سے ہے اور جب وہ ایسا ثابت کر دے تو اب اس کی وجہ سے اسے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً اگر آریہ یہ ثابت کر دیں کہ مادہ غیر مخلوق ہے اور اس پر خدا تعالی کی گواہی لائیں اور کسی شخص پر کھل جائے کہ واقعی خدا تعالیٰ نے ہی یہ کہا ہے تو اب وہ اس بات کی بناء پر کہ یہ بات عقل میں نہیں آئی آریہ مذہب کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ سینکڑوں باتیں ہیں جن کی وجہ اور جن کا سبب لوگوں کو نہیں معلوم لیکن اس سے ان کے وجود میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔ ایک مریض کے اگر پیٹ میں درد ہوتی ہو تو اس وجہ سے کہ اس درد کا باعث معلوم نہیں اس درد کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ زندگی کا قیام ہی اس بات پر ہے کہ ایک جنس دو سری جنس کو قتل کرے یا ہلاک کرے تو اب اس کا نام ظلم نہیں ہو سکتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی ( یہ اس کے لئے ہے جس کی سمجھ میں نہ آئے ورنہ ہماری سمجھ میں تو آتی ہے)۔ لطیفہ ، اگر یہ اصول درست مان لیا جائے کہ چونکہ گوشت کھانے والا گوشت کھاتا ہے۔ اسی لئے جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور یہ بھی اس گناہ میں شریک ہے تو خود آریہ بھی ملزم ہوں گے۔ گھاس پارٹی کے ممبر جو جوتیاں یا بوٹ پہنتے ہیں یہ بھی آخر جانوروں کے چمڑہ سے بنتی ہیں اور ان کا جوتی یا بوٹ خرید نا اس فعل میں شریک ہوتا ہے اگر یہ جو تیاں نہ پہنیں تو ضرور چمڑہ کی خریداری کم ہو جائے اسی طرح ان کے گھروں میں ہزاروں چیزیں پروں کی استعمال ہوتی ہیں اور ان کو معلوم ہے کہ پر لینے کے لئے ہر سال لاکھوں جانور مارے جاتے ہیں چنانچہ بعض جانورای وجہ سے قریباً مفقود ہونے کو ہیں جن کے شکار کی ممانعت کے لئے کئی ایکٹ پاس کئے گئے ہیں تو جب کروڑوں ہندو ان پروں کی اشیاء کو خریدتے ہیں تو تجارت کی ترقی کی وجہ سے جانور بھی زیادہ مارے جاتے ہیں اس لئے یہ بھی غیر مذاہب کی طرح اس ظلم میں شریک ہیں اور جیسے گوشت کھانے والا مجرم ہے ویسے ہی جوتی یا بوٹ پہننے والا اور پیروں کی اشیاء استعمال کرنے والا مجرم ہے۔ منہ