انوارالعلوم (جلد 1) — Page 356
انوار العلوم جلد 1 ۳۵۶ گوشت خوری چڑھاووں کے بقیہ کے کھانے کی نسبت ہدا یتیں دی گئی ہیں اور اتھر بن دید کی گوتھ برہمن میں مفصل طور سے ان شخصوں کے نام پائے جاتے ہیں جو قربانی کی رسم کے ادا کرنے میں کچھ نہ کچھ لیا کرتے تھے اور بتلایا جاتا ہے کہ ہر ایک کو قربانی شدہ جانور کا کون کون سا حصہ ملنا چاہئے ۔ اسی طرح پر و فیسر ولسن صاحب لکھتے ہیں ۔ " اس میں کچھ شک نہیں ہے ۔ کہ گھوڑ ا ذبح کیا جاتا تھا اور اس کا بدن ٹکڑے ٹکڑے کر کے درست کیا جاتا تھا۔ اور اس میں سے کچھ ٹکڑے تو ابالے جاتے تھے اور کچھ بھونے جاتے تھے " १९ ڈاکٹر راجندر لعل متر اپنی کتاب انڈین آرین پر لکھتے ہیں کہ ”ہندو مذہب کی تعلیم خواہ کیسی ہی رحم اور مہربانی سے پر کیوں نہ ہو ۔ مگر وہ حیوانوں کی قربانی کے بالکل مخالف نہیں ا ہے ہے۔ ۔ بلکہ بہت سی بڑی بڑی رسموں کے ادا کرتے وقت کئی قسم کے حیوان اور پرندے کثرت کے ساتھ ذبح کئے جاتے تھے۔ ایک رسم کے پورا کرنے کے لئے رسم ادا کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہوتا تھا کہ وہ سمندر میں ڈوب کر مر جائے ۔ اس کو وہ مہا پر متھنا کہتے تھے ۔ ایک اور رسم کفارہ کے لئے ہوتی تھی جس میں گنہگار اپنے تئیں جیتا ہی جلا کر راکھ کر لیتا تھا اس کو شنا کہتے تھے بنگال کی رحمدل عورتیں بہت عرصہ تک اپنے پلوٹھے بچوں کو دریائے گنگا میں پھینکتی رہی ہیں ۔ آجکل اگر ہندو مذہب کے پیروں نے ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے (گورنمنٹ کے ڈر سے ۔ مؤلف مضمون ہذا) تو یہ فرض کرنا بھی خلاف عقل معلوم نہیں ہوتا کہ قدیم زمانہ میں دیوتاؤں کے غضب کے مٹانے کے لئے انسان قربان کئے جاتے تھے “ اس اقتباس سے بھی ظاہر ہے کہ ست جگ میں قربانی کی جاتی تھی بلکہ انسان بھی قربان کئے جاتے تھے۔ مونٹ سٹورٹ انفنسٹن لکھتے ہیں کہ منو کے دھرم شاستر میں بڑے بڑے تیوہاروں میں بیل کے گوشت کھانے کے لئے برہمنوں کو تاکید کی گئی ہے اگر نہ کھائیں تو گنہگار ہوں۔ شاستر میں لکھا ہے کہ جو جانور کھانے میں آتے ہیں اور جو لوگ انہیں کھاتے ہیں دونوں کو برہما نے پیدا کیا ہے ۔ اس لئے اگر شاستر کے طور پر انہیں کھاویں تو کچھ گناہ نہیں اور دیوتاؤں اور پتروں کو گوشت چڑھا کر کھانا کچھ پاپ نہیں۔ اور برہمنوں کو سانے ، گرگٹ ، چھپکلی مگر مچھ ، خرگوش وغیرہ کھانا درست ہے (حجۃ الہند) منو شاستر میں ہے کہ سورج کی اترائیں اور دکھ شائن میں بلیدان یعنی قربانی کرنا اور کھانا فرض ہے ۔ (حجۃ الہند) اسرب اپنکھ اتھر بن دید میں ہے کہ جن حیوانات کے تلے کے دانت ہیں وہ خورندہ ہیں۔