انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 8

انوار العلوم جلد 1 ہیں۔ چشمه توحید بندے کا تو فرض ہے کہ خالص اپنے آقا کے لئے ہو جائے مگر جب ایک سچا عبد کون ہوتا ہے آدمی خدا کے علاوہ اوروں کی پرستش کرتا ہے ان سے بھی نفع و ضرر کی ویسی ہی امید رکھتا ہے جیسے کہ خدا سے تو کیوں کر وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ کہہ سکتا ہے۔ اور اصل بندہ تو وہ ہے جو نفس مطمئنہ رکھتا ہے اور اس کا قلب خدا تعالیٰ کی الوہیت سے مطمئن ہے اور وہ کسی اور کو خدا تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھراتا۔ جو ایک خدا کو جو متصف ہے تمام نیک صفات سے اپنے لئے کافی سمجھتا ہے۔ اور جو عبودیت اور خالص بندگی سے آپ کو خدا تعالیٰ کا بندہ ہونے کے لائق بنا دیتا ہے۔ پس اس جگہ عبد کے معنے اس بندہ کے ہیں جو خدا کا بندہ ہونے کے قابل ہے۔ مثال کے لئے دیکھو آنحضرت اللہ بھی اس خدا کے پیدا آنحضرت ا وابو جہل کئے ہوئے تھے اور ابو جہل بھی۔ مگر ابو جہل نے اپنی شرارت ، فسق و فجور اور شرک سے اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت نہ کیا بلکہ بتوں کا بندہ ثابت کیا اور انہیں کی طرف داری میں اپنی جان تک قربان کی۔ مگر آنحضرت اللہ نے اپنے آپ کو خالص خدا کے لئے ہی کر دیا شرک سے بکلی پر ہیز کیا اور اپنی عبادت اور قربانیاں سب خدا کے لئے ہی مخصوص رکھیں اور اپنے آپ کو خدا کا بندہ ثابت کیا۔ پس خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا اور اس کا کیا؟ ابو جہل تو بدر کے میدان میں قتل کیا گیا اور ایک کنویں میں اس کی لاش پھینکی گئی۔ اور اس کے مرتے وقت کی خواہش بھی پوری نہ ہوئی یعنی اس نے کہا تھا کہ میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹنا کیوں کہ عرب کے معززین کی نشانی ہی ہوتی تھی۔ مگر کاٹنے والے نے اس کی گردن سر کے پاس سے کاٹ کر ثابت کیا کہ شیطان کے دوست کبھی کامیاب نہیں ہوتے ۔ اور اسی وقت دوسری طرف آنحضرت ا کو وہ فتح نصیب ہوئی کہ وہ خدا تعالیٰ کی جنت کے وارث نہ صرف عقبی میں بلکہ اس دنیا میں بھی ثابت ہوئے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ ادْ خُلی جنتی ۔ پس وہ انسان جو خدا تعالی سے کامل تعلق کرنا چاہے وہ شرک کو چھوڑ دے ۔ کیوں کہ خدا کو شرک پسند نہیں۔ اب میں یہ بات بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ شرک دو قسم پر مشتمل شرک کی دو قسمیں ہیں ہے۔ ایک شرک جلی اور ایک شرک خفی - شرک جلی وہ جو کھلا کھلا شرک ہے جیسے بتوں وغیرہ کا شرک یا انسان پرستی ، قبر پرستی ، چاند اور سورج پرستی وغیرہ وغیرہ۔ ایسے شرک کرنے والے تو اس کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ وہ ایسا کرتے ہیں مگر اچھا سمجھ کر اور ایسا