انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 346

انوار العلوم جلد 1 ۳۴۶ پہاڑی وعظ ہیں۔ اس بات کو تو آپ بھی مانتے ہیں کہ خدا میں اور انسان میں مشابہت نہیں ہے کلام صفت نہیں کلام قدرت ہے۔ طالب حق ۔ پادری صاحب کلام وہ ذریعہ ہے کہ جس سے ہم اپنا مافی الضمیر دو سرے پر ظاہر کرتے ہیں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ میں اور ہم میں بہت فرق ہے وہ خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں لیکن جیسے انسان کے دیکھنے کی طاقت سننے کی طاقت اور اس کے علم کو آپ لوگ صفات انسانی قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی بھی ان طاقتوں کو صفات ہی قرار دیتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ خدا کی صفت علم کو یا صفت سمع کو تو آپ صفت قرار دیں اور صفت کلام کو اس بناء پر کہ خدا اور انسان میں بہت فرق ہے دوسری ذات قرار دیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم زبان سے زید کے ، زید کو حکم دیتے ہیں کہ تو آجاتا ہے ہمارے مافی الضمیر کے اظہار کا یہی طریقہ ہے طریقہ ہے لیکن ہم اپنے اس کلام کو اپنے جیسا انسان قرار نہیں دیتے۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ ہم دو ہیں۔ ایک ہم اور ایک ہمارا کلام ۔ اور اگر ایسا ہو تو کلام کو ایک ذات قرار دینا اور سمع و بصر کو نہ قرار دینا ترجیح بلا مرجح ہو گا۔ پھر علاوہ ازیں آپ صرف اس کلام کو جس کے واسطے دنیا پیدا کی گئی۔ کیوں خدا کہتے ہیں۔ کیوں توریت اور انجیل اور دیگر صحف انبیاء کو خدا قرار نہیں دیتے۔ اگر آپ خدا کی صفات سمع و بصر و علم کو خدا قرار نہیں دیتے۔ تو آپ کم از کم انجیل یوحنا کے ماتحت کہ ” ابتداء میں کلام تھا۔ اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔ انجیل و توریت کو اور دیگر صحف انبیاء کو خدا اقرار دیں۔ اور وہ آد پادری صاحب - مسکرا کر ۔ نہیں نہیں ہم انجیل توریت کو خدا نہیں مانتے ہمارے مذہب میں ایسا جائز نہیں۔ اور ہم تو کلام کو صفت قرار نہیں دیتے ۔ بلکہ ایک ذات قرار دیتے ہیں۔ طالب حق ۔ تو آپ کلام کو کیا سمجھتے ہیں۔ پادری صاحب - قدرت طالب حق - جناب نے فرمایا کہ ہم کلام کو قدرت سمجھتے ہیں۔ لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہیئے کہ قدرت بھی کوئی علیحدہ ذات نہیں ۔ مثلاً میرے ہاتھ میں پکڑنے کی قدرت ہے۔ یہ قدرت میرے ارادے کے ماتحت ہے۔ اس میں خود کوئی علم نہیں۔ جب ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو پکڑ تو وہ پکڑ لیتا ہے۔ اس ہاتھ سے میں مفید سے مفید اور مضر سے مضر چیز کو پکڑ سکتا ہوں۔ اور میرے علم اور ارادے ما تحت میرے ہاتھ کو جس چیز کو میں حکم دوں پکڑنا ہو گا۔ مثال کے طور پر یہ چیز میرے سامنے پڑی ہوئی ہے پس اپنے ہاتھ کو حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو پکڑ چنانچہ اس نے میرے ارادے کے ماتحت اس کے