انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 347

انوار العلوم جلد : پہاڑی وعظ کو پکڑ لیا۔ لیکن خود میرے ہاتھ کے پکڑنے میں تو کوئی علم نہیں۔ اگر آپ مسیح کو قدرت بھی قرار دیں اور کلام کا دوسرا نام قدرت رکھیں ۔ تب بھی تو مسیح کوئی علیحدہ ذات قرار نہیں پاسکتا۔ ورنہ ہر ایک چیز میں کچھ نہ کچھ قدرت ضرور ہوتی ہے۔ تو اس طرح ہر ایک ذات کو روزا تیں قرار دینا پڑے گا اور دوسرے اس صورت میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ مسیح علم اور ارادے سے خالی تھا کیونکہ جیسا کہ میں ثابت کر آیا ہوں کہ قدرت صفت علم وارادہ کے بکلی ماتحت ہوتی ہے اس صورت میں مسیح خدا کے علم وارادہ کے بکلی ماتحت ہوا ۔ اور وہ چیز جو علیم و قدیر ہستی کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کے طور پر ہو۔ اور خود اس کا کوئی دخل نہ ہو وہ خدا نہیں کہلا سکتی ۔ خدا تو وہی ہے جو علیم و قدیر ہو ۔ اور تمام نقائص سے مبرا اور خوبیوں سے متصف ہو ۔ پادری صاحب ۔ ہم تو مسیح کو علم سے خالی نہیں سمجھتے مسیح ضرور علیم ہے۔ طالب حق ۔ یہ بے شک درست ہے کہ آپ مسیح کو ایک علیم ہستی مانتے ہیں اور گو مسیح انجیل میں اپنے علم کا منکر ہے مگر اس وقت مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں۔ میں آپ ہی کی بات کو مانتا ہوں۔ اور چونکہ مسیح خدا ہے اس لئے ہونا بھی ایسا ہی چاہئے لیکن یہ اعتقاد کی بات ہے اور جیسا کہ پہلے بیان کر آیا ہوں آپکی خدمت میں ایسے انسان کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں جس نے عام دنیا کے اعتقادوں کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا اعتقاد سچا ہے اور چونکہ ایسا با متلاشی متلاشی کسی کتاب کا قائل قائلا نہیں ہوتا ضروری ہے کہ اس کے سامنے عقلی دلائل پیش کئے جائیں۔ اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں مسیح کو اگر کلمہ مان لیا جاوے تو اول تو وہ ایک صفت اور پھر علم سے خالی ثابت ہوتا ہے اور چونکہ میں عقلی دلیل سے ہی فائدہ اٹھا سکتا ہوں اس لئے ضرور ہے کہ یا تو سرے سے مسیح کے کلمہ ہونے کا ہی انکار کر دوں یا آپ کے قول کو مانتے ہوئے اسے کلمہ تو قرار دوں لیکن علم سے خالی۔ پادری صاحب ۔ بیشک عقل تو یہی کہتی ہے لیکن انجیل اس بات کو نہیں مانتی۔ طالب حق ۔ تو کیا عقل کی رو سے تثلیث کا ماننانا ممکن ہے۔ پادری صاحب۔ اس میں کیا شک ہے کہ عقل انسانی ہستی باری کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ طالب حق - جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے عقل ہی ایک سمجھ کا ذریعہ بنایا ہے تو بغیر عقل کے ہم کسی بات کو مان کیونکر سکتے ہیں۔ بے شک بعض باتیں عقل سے بالا ہوتی ہیں لیکن کوئی اللی مذہب اپنے پیرڈوں سے خلاف عقل باتیں نہیں منواتا۔ میں اس بات میں آپ سے متفق ہوں کہ ذات الہی کی کنہ کو سجھنا انسانی عقل کا کام نہیں۔ کیونکہ وہ محدود ہے مگر یہ ضروری ہے کہ جن باتوں کو ماننا