انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 345

انوار العلوم جلد | ۳۴۵ پیاری و عظ نہیں۔ کہ نیست سے ہست ہوا۔ خدا نے حکم کیا ہو جا وہ ہو گئی ہم نہیں مانتے کہ اس نے نیست کو کہا کہ تو کچھ بن جا۔ طالب حق - او ہو آپ نے بہت اچھا جواب دیا ۔ اور بہت لطیف بات کہی لیکن میری عرض یہ تھی کہ کلمہ سے دنیا پیدا ہوئی ۔ یا خدا کے امر پر دنیا موجود ہو گئی۔ پادری صاحب - ہاں کلمہ مسیح ہے انجیل میں لکھا ہے کہ ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا۔ اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا سب چیزیں اس سے موجود ہو ئیں اور کوئی چیز موجود نہ تھی جو بغیر اس کے ہوئی۔ زندگی اس میں تھی۔ اور وہ زندگی انسان کا نور تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابتداء میں خدا کے ساتھ مسیح تھا اور مسیح سے دنیا پیدا ہوئی۔ آپ کے مذہب اسلام میں بھی مسیح کو کلمہ کہا گیا ہے ۔ کیا میں آپ کو اس کی نسبت کچھ سناؤں۔ طالب حق - پادری صاحب میں نے آپ سے ابتداء ہی میں عرض کر دیا تھا کہ میں ایک ایسے انسان کی حیثیت سے آپ کے پاس آیا ہوں جس کی نظر میں تمام مذاہب برابر ہیں۔ اور گو میں مسلمان ہوں لیکن اس وقت میں ایسے پیرایہ میں گفتگو کروں گا گویا کل مذاہب ابھی میرے زیر تحقیق ہیں اس لئے آپ ابھی انجیل کی نسبت کلام فرمادیں۔ اگر قرآن شریف کی تحقیقات کی ضرورت ہوگی تو میں کسی مولوی کے پاس جاؤں گا۔ قرآن شریف کی تحقیقات کے لئے مجھے کسی پادری کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ وید کی نسبت میں پنڈت سے پوچھوں گا۔ قرآن شریف کی نسبت کسی مولوی سے۔ اور بائبل کی نسبت پادری صاحب سے تحقیقات کروں گا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں بائبل سمجھنے کیلئے کسی مولوی کے پاس جاؤں اور قرآن شریف سمجھنے کے لئے کسی پادری کے پاس۔ آپ اس وقت بائبل سے کلام فرمائیں۔ پادری صاحب - مسکرا کر ر ہاں تو بیشک آپ بائبل کی نسبت سوال کرتے ہیں۔ بائبل سے جیسا کہ میں نے بتلایا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ کلام سے دنیا پیدا ہوئی۔ طالب حق - تو پادری صاحب آپ تثلیث کے کیوں قائل ہیں۔ کلام ایک صفت ہے اور اصفات پائی جاتی ہیں دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، قادر ہے ، علیم ہے ، خالق ہے۔ آ۔ خالق ہے۔ آپ صرف خدا میں بیسیوں صفات صفت کلام کو ہی کیوں خدا قرار دیتے ہیں۔ آپ کل صفات اللہ کو ابنائے الہیہ قرار دیں۔ آپ کے مذہب کے رو سے تو صرف تثلیث پر ہی کفایت نہیں کی جاسکتی۔ پادری صاحب - او ہو آپ کو غلطی لگ گئی ہے کیا آپ خدا کے کلام کو انسانی کلام سمجھتے