انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 7

انوار العلوم جلد 1 ८ چشمه توحید یہ خیال پیدا ہو کہ میں نے شرک کا اس طرح بیان کیا ہے گویا کہ دنیا میں اور کوئی گناہ ہے ہی نہیں۔ لیکن نہیں میرا مطلب یہ نہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ شرک ہی سے دوسرے گناہ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ شرک کی حقیقت جب ایک انسان شرک سے بالکل پاک ہو توکیو کر مکن ہو سکتا ہے کہ وہ خدات کل صفات پر ایمان رکھتا ہے تو وہ کوئی برائی نہیں کر سکتا۔ چور جب چوری کو جاتا ہے۔ اگر اس کو یہ ایمان ہو کہ ایک خدا ہے جو کہ دیکھتا ہے اور گناہ کی سزا دیتا ہے تو پھر وہ کبھی چوری نہیں کر سکتا اسی طرح دوسرے گناہ کرنے والے اگر بجائے مخلوق الہی سے ڈرنے کے خود خالق سے ہی ڈریں تو وہ ان تمام فریبوں اور گندگیوں کو چھوڑ دیں جو کہ بصورت دیگر ان کے دلوں میں جاگزیں ہوتے ہیں۔ پس جو شرک کو چھوڑتا ہے وہ کبھی کوئی گناہ نہیں کر سکتا جس کا کہ اس کو علم ہو اور بے علمی کی خطاء کو تو خدا بھی نہیں پکڑتا۔ اس لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ من - مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ (یعنی جو کوئی کامل طور سے شرک کو چھوڑ دے وہ جنت میں داخل ہو گا کیوں کہ جب وہ شرک کو چھوڑ دے گا اور حقیقی طور سے خدا کو واحد اور اس کی صفات کو بر حق مان لے گا تو وہ کوئی اور گناہ کرے گا ہی نہیں اور اس کالازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ انعامات الہیہ کا مورد ہو ۔ ایسے آدمی کا چلنا پھرنا کھانا اور پینا سب خدا کے ہی لئے ہوتا ہے یعنی جب وہ بولتا ہے تو خدا کے لئے بولتا ہے۔ سنتا ہے تو خدا کے لئے سنتا ہے۔ کھاتا ہے تو خدا کے لئے کھاتا ہے اور پیتا ہے تو خدا کے لئے ۔ اس وقت شیطان بھی اس کے قریب نہیں جاتا۔ گویا کہ ایسے آدمی کا شیطان بھی مسلمان ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت اللہ نے فرمایا ہے کہ میرا شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے ۔ پس جب انسان اس حد تک اپنے دل کو پاک وصاف کر لیتا ہے ۔ تو وہ خدا کا اور خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی شخص کے لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ بأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِى وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: ۲۸-۳۱) اس موقعہ پر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے ۔ کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نفس مطمئنہ میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ پس کیا دو سرے لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوق نہیں ہیں۔ وہ ہیں مگر اس جگہ خدا تعالیٰ ایک استعارہ بیان فرماتا ہے کہ بندہ تو وہ ہے جو اپنے آپ کو بندہ پ کو بندہ ہونے کے لائق بھی بنادے ۔ جو جو طرح طرح کے مشرکوں میں اور مختلف قسم کی بدعتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کا نفس نفس امارہ ہے تو کیوں کر وہ میرے بندے ہو سکتے ۔