انوارالعلوم (جلد 1) — Page 322
انوار العلوم جلد 1 ۳۲۲ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں سے وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہو گا اور اسی طرح براہین پنجم میں فرماتے ہیں کہ انہی دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جائے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک قرنا بجائے گا اور اس قرنا کی آواز سے ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھنچا آئے گا بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں۔ جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں " بیان بھی اس کے متعلق حضرت حضرت مرزا صاحب کے تمام دعاوی کو ماننامدار نجات ہے خلیفہ المسیح کا ایک حلفیہ بھی نقل کرتا ہوں آپ نے حضرت مسیح ۔ مسیح موعود کی وفات کے بعد تحریر کیا۔ عصر جدید میں ایک مضمون نکلا تھا جس میں کہ تھا جس میں کہ نامہ نگار نے نے بڑے زور سے پیشنگوئی کی تھی کہ اب چونکہ حضرت مرزا صاحب فوت ہو گئے ہیں اور ان کے بعد ہیں اور ان کے بعد حضرت مولوی صاحب جانشین ہوتے ہیں اور آپ کے عقائد اصل میں مرزا صاحب کے خلاف ہیں اور آپ در حقیقت تمام ان باتوں کو نہیں مانتے جو مرزا صاحب نے بیان کی ہیں اور اس لئے عنقریب وہ دن آنے والے ہیں کہ جب مولوی صاحب تمام جماعت احمدیہ کو پھر مسلمانوں میں شامل کریں گے اور میں نے اس کے جواب میں ایک مضمون لکھا تھا جس پر آپ نے یہ عبارت تحریر فرمائی ۔ جو کہ تشحید الاذہان جلد ۳ نمبر ۸ میں شائع ہو چکی ہے وھو هذا - میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا صاحب کے تمام دعاوی کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو نجات کا مدار ماننا میرا ایمان ہے "۔ دستخط حضرت خلیفہ المسیح نور الدين اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے معتقدات بھی نجات کا ایک مدار ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کو کو ایک خط میں حضرت خلیفہ حضرت خلیفہ اول کی تحریرات المسیح فر سیح فرماتے ہیں کہ " پھر ان انبیاء کی خلاف ورزی کے متعلق ہم آپ کو ایک آیت ناتے ہیں ۔ وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنُهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُوْنَ فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أَوْ تُوا أَخَذَتْهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ ۔ (الانعام: