انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 321

انوار العلوم جلد ! ۳۲۱ مسلمان رہی ہے جو سب ماموروں کو مانے نہیں مانتا۔ اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہو گا "۔ ان عبارتوں سے یہ نتائج نکلتے ہیں اول تو یہ کہ مکفر اور خاموش کفر اور مترو کی تشریح ایک ہی گروہ میں سے ہے کیونکہ جو مانتا ہے اسے مؤمن کہتے ہیں ہو اور کافر مؤمن کے مقابل میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو نہیں مانتا خواہ وہ کفر ہو یا خاموش کا فر ہے اور یہ دونوں گروہ ایک ہی قسم کے ہیں دوسری یہ کہ جو آر سری یہ کہ جو آپ کو نہیں مانتا وہ ضرور آپ کو مفتری قرار دیتا ہے تیسری یہ کہ جو آپ کو نہیں ماد پ کو نہیں مانتا اس کا ایمان در حقیقت خدا نے ت خدا تعالیٰ پر بھی نہیں اور نہ رسول اللہ پر ہی ہے۔ چوتھے یہ کہ چونکہ وہ شخص آیات اللہ کا منکر ہے اس لئے مؤمن نہیں و سکتا۔ پانچویں یہ کہ چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے اسے ہم مؤمن نہیں کہہ سکتے اور چھٹے یہ کہ وہ اور مؤاخذہ سے بری نہیں۔ ساتویں یہ کہ کفر دو قسم کا ہے ایک اللہ اور رسول کا کفر اور ایک دیگر آیات کا کفر جس میں حضرت صاحب کا کفر بھی شامل ہے۔ آٹھویں یہ کہ اصل میں یہ سب کفر ایک ہی ہے جس نے آپ کا کفر کیا اس نے خدا و رسول کا کفر بھی ساتھ ہی کیا۔ نویں یہ کہ جس پر ان دونوں کفروں میں سے کوئی ایسی قسم کفر کی ثابت ہو جائے وہ قیامت کے دن زیر مؤاخذہ ہو گا۔ ہو اس بات کے ثبوت میں کہ حضرت صاحب نے کل ان لوگوں کو مکفرین قابل مؤاخذہ ہیں جن پر اتمام حجت ہو چکا ہے اور دعوت پہنچ چکی ہے شرعاً قابل مؤاخذہ ٹھہرایا ہے یہ عبارت کافی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا تعالیٰ نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارے میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعوئی پر وہ اطلاع پا چکا ہے قابل مؤاخذہ ہو گا۔ کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا ہوں یعنی حضرت محمد مصطفی الله جو شخص مجھے نہیں مانتادہ میرا نہیں بلکہ اس کا نا فرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی " - حقیقت الوحی صفحہ (۱۷۸) پھر اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۲ میں فرمایا کہ ”ایساہی آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى (البقرہ : ۱۲۶) اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے ۔ تب ہر زمانہ