انوارالعلوم (جلد 1) — Page 323
انوار العلوم جلد 1 ۴۳ - ۴۵) اس آیت پر غور کرو " که ۳۲۳ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے اسی طرح اس خط میں حضرت مسیح کے مخالفین کی نجات کی نسبت عبدالحکیم کو تحریر فرماتے ہیں " پھر آپ نے تیرہ کروڑ مسلمانوں پر ر مسلمانوں پر رحم فرمایا ہے اور ذکر کیا ہے کہ تیرہ سو سال میں تیرہ کروڑ مسلمان تیار ہوئے ہیں سب کو نجات حاصل کرنا چاہئے حکیم وڈاکٹر صاحب دوارب اللہ کی مخلوق اس وقت موجود ہے تیرہ کروڑ اگر محمد رسول الله الل کے باعث تیار ہوئی ہیں تو دو ارب اللہ کی مخلوق ڈارون کے طریق سے لاکھوں برس اور معلوم نہیں کہ کب سے جو تیار ہوئی ان سب نے اگر نجات نہ پائی تو تیرہ کروڑ چیز ہی کیا ہیں " اس مندرجہ بالا عبارت میں حضرت خلیفۃ المسیح اس کے سوال کا جواب دیتے ہیں کہ مرزا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے تیرہ سو سال کی کوششوں کا نتیجہ یہ تیرہ کروڑ مسلمان کیوں غیر ناجی قرار دیا جائے اور فرماتے ہیں کہ جس طرح رسول اللہ کی مخالفت کی وجہ سے دو ارب انسان غیر ناجی ہو سکتا ہے اسی طرح اب اللہ تعالیٰ کی منشاء کے ماتحت مرزا صاحب کی وجہ سے یہ تیرہ کروڑ غیر ناجی ہو سکتا ہے اور ان مندرجہ بالا اقتباسات سے حضرت خلیفۃ المسیح کالا المسیح کا اعتقاد خوب ظاہر ہو جاتا ہے۔ اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں کہ نجات فضل سے ہے اور فضل کا جاذب تقوی ہے اور تقوی کا بیان ليس البر والی آیت میں ہے اور اس میں شاید مرزا کا بھی کہیں ذکر آیا ہو ۔ اس میں آپ نے آیت کے اس حصہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس میں نجات کے مداروں میں نبیوں پر ایمان لانا بھی ضروری قرار دیا ہے ۔ اب میں حضرت صاحب کی وہ عبارت نقل کرتا ہوں ۔ جس میں کہ متردد کے لئے ایک راہ آپ نے خاموش لوگوں کی نسبت تحریر فرمایا ہے فرماتے ہیں۔ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کا فر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا تب میں ان کو مسلمان سمجھ لوں گا بشرطیکہ ان میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جائے۔ اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں"۔ پھر آخر پر لکھتے ہیں ” دو سو مولوی کے کفر کی نسبت نام بنام ایک اشتہار شائع کریں بعد اس کے حرام ہو گا کہ میں انکے اسلام میں شک کروں بشرطیکہ کوئی نفاق کی سیرت ان میں نہ پائی جائے"۔ پھر حاشیہ پر ارشاد