انوارالعلوم (جلد 1) — Page 320
انوار العلوم جلد 1 ۳۲۰ مسلمان وہی ہے جو سب ماموروں کو مانے سے ہر تاخیر کرے تو یہ جائز ہو گا یا نہیں " فرماتے ہیں کہ " توقف اور تاخیر بھی ایک قسم انکار کی ہے " اب ہے ایک دانا اور عقلمند انسان دیکھ سکتا ہے کہ سائل نے اپنے سوال میں کس قدر شرائط لگائی ہیں کہ ایک شخص آپ کو کو جھوٹ جھوٹا بھی نہیں مانتا۔ اور آپ کا انکار بھی نہیں کرتا اور محض مزیدا اطمینان کے لئے بیعت میں ابھی توقف کرتا ہے تو اس کی نسبت کیا فتوی ہے جس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ اس کا بھی وہی حال ہے جو منکر کا حال ہے اور منکر کا حال اوپر کے فتویٰ میں جو حقیقۃ الوحی نقل کیا گیا ہے درج ہے یعنی اسے کا کافر قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ بھی جو آپ کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعوی کو نہیں مانتا کافر قرار دیا گیا ہے بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے پس سوچنے کا مقام ہے کہ حضرت صاحب نے اس معاملہ میں کس قدر تشدد سے کام لیا ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے کیونکہ اگر ایک ہندو رسول اللہ کو سچا مانے اور دل میں اقرار بھی کرے اور ظاہر طور پر انکار بھی نہ کرے ۔ ہاں بعض واقعات کی وجہ سے ابھی کھلم کھلا اسلام لانے سے پر ہیز کرے تو ہم اسے کبھی بھی مسلمان نہیں کہتے بلکہ اسے کافر ہی سمجھتے ہیں۔ اور شریعت اسلام کبھی اس کے ساتھ ناطہ رشتہ کو جائز نہیں رکھتی۔ یعنی اس کے ساتھ کسی مسلمان عورت کے بیاہ دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ پس اسی طرح اس غیر احمدی کا حال ہے جو حضرت صاحب کو دل میں سچا بھی جانتا ہے لیکن ابھی بیعت کرنے میں مترو رہی ہے پس جو لوگ ابھی آپ کے دعوئی کے ماننے میں متردد ہیں ان کی نسبت حضرت صاحب نے کفر کا فتوی دیا ہے جیسا کہ میں حضرت صاحب کی عبارتیں اوپر نقل کر آیا ہوں۔ ہر پر ہے اس لئے ہم پھر دوسری جگہ فرماتے ہیں "چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر کفر کی دو قسم منکرین کو مؤمن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہیں کہ وہ مؤاخذہ سے بری ہیں اور کافر منکر ہی کو کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مؤمن کے مقابل پر ہے اور کفر دو قسم پر ہے ایک کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت کو خدا کار سول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلا وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھو ٹا جانتا ہے جس کے ماننے اور سچا ماننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کرنے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتادہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی