انوارالعلوم (جلد 1) — Page 271
انوار العلوم جلد 1 ۲۷۱ نجات میرا جسم اور روح دونوں شامل تھے اور میں جسمانی اور روحانی دونوں سزائیں بھگت رہا ہوں پس اگر وہ دونوں حصوں میں سزا محسوس کرتا ہے تو دونوں کا علاج الگ الگ طریق سے کرے اور وہ ہیں ہے کہ روح کا علاج روحانی کرے اور توبہ و استغفار سے کام لے اور جسم کا جسمانی یعنی طبی علاج کرائے۔ پس جو شخص صرف تو بہ واستغفار سے کام لیتا ہے اور اس کے جسم نے جو گناہ کیا تھا اس کی تلافی نہیں کرتا تو ایسا شخص اگر اپنی جسمانی سزا سے نہیں بچا تو اسلام کے بتائے ہوئے تو بہ کے مسئلہ پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا۔ اس شخص کی تو بہ تو کامل ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس نے خدا تعالٰی کے بتائے ہوئے راستہ کو یعنی طبی علاج کو ترک کیا اور اسے اختیار نہیں کیا۔ پس ضرور ہے کہ جس حصہ میں اس کی تو بہ ناقص رہی ہے اس میں وہ سزا پائے۔ لیکن جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں چونکہ روح کا جسم سے کمال درجہ کا تعلق ہے اس لئے بعض دفعہ روح کا اثر جسم پر بھی پڑ جاتا ہے اور کوئی بات روح پر کمال درجہ کا اثر کرے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ جسم بھی اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اس لئے جن لوگوں کی تو بہ اس حد کو پہنچ جاتی ہے کہ روح شدت اثر سے تڑپ اٹھتی ہے اور وہ توبہ کی ضروری شرط عمل صالحہ سے بھی کام لیتے ہیں اور اپنی اصلاح کامل طور سے کر لیتے ہیں۔ اور ان کے دل میں ایسی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے کہ نہ صرف پچھلے گناہوں کی بھی تلافی ہو جاتی ہے بلکہ آئندہ کے لئے بھی ان کے خدائے تعالیٰ سے ایسے تعلقات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ غیر منقطع ہوتے ہیں تو اس صورت میں دیکھا جاتا ہے کہ روحانی تو بہ ہی جسم پر اثر کرتی ہے اور بغیر کسی جسمانی علاج کے وہ لوگ اپنے جسمانی دکھوں سے بھی نجات حاصل کر لیتے ہیں چنانچہ اس کی مثالیں بزرگان اسلام کی لائف میں بکثرت ملتی ہیں۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض لوگوں کی تو بہ جب کمال درجہ کو پہنچ گئی تو نہ صرف ان کی روح نے ہی نجات پائی بلکہ اس دنیا میں اس کا اثر نمودار ہوا۔ اور وہ دکھ جو ان کے پچھلے گناہوں کی وجہ سے ان کا جسم پا رہا تھا وہ بھی خود بخود دور ہو گئے۔ اور لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ واقعی اس شخص کی توبہ نے اپنا اثر کیا۔ ہمارے حضرت مرزا صاحب کی دعاؤں سے ہی ہم نے بہت دفعہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے شفاء حاصل کی اور روحانی بیماریوں کے ساتھ جسمانی بیماریوں سے بھی نجات پائی ۔ پس یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ توبہ سے کبھی بھی جسمانی بیماریاں دور نہیں ہوئیں۔ بلکہ ہوتی ہیں اور ضرور ہوتی ہیں۔ ہاں شرط یہ ہے کہ تو بہ خود اس درجہ کامل ہو جائے کہ وہ جسم پر بھی اثر کرے یا کسی کامل کامل انسان انسان