انوارالعلوم (جلد 1) — Page 270
انوار العلوم جلد 1 ۲۷۰ نجات دوسرا الگ الگ کام ہیں اور الگ الگ طریق سے وہ اپنی غذا ئیں حاصل کر رہے ہیں ہر ایک کی بیماریاں الگ ہیں اور ان کے علاج بھی پھر الگ الگ ہی ہیں ایک کسی بات سے فرحت حاصل کرتا ہے تو سرا کسی اور ہی بات سے مگر باوجود اس کے چونکہ آپس میں دونوں کے تعلقات : نات بہت ہیں اور مضبوط ہیں۔ اس لئے شدت فرح یا شدت غم میں ایک دوسرے پر اثر کرتے ہیں چنانچہ بعض لوگ کوئی خوشی کی خبر سن کر موٹے ہو جاتے ہیں یا غم کی خبر سن کر کمزور ہو جاتے ہیں اور ضعف محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو خالص روحانی ہیں۔ اور ان کا اثر جسم پر نہیں پڑتا۔ اور ایک گناہ وہ ہیں کہ جن میں روح اور جسم دونوں شریک ہوتے ہیں پس جن گناہوں میں جسم و روح دونوں شریک ہوتے ہیں ان میں اکثر دونوں کو ہی سزا ملتی ہے۔ پس جو شخص توبہ کرتا ہے اگر اس کو جو سزائیں ملتی ہیں صرف روحانی ہیں تو اس کے لئے اپنے اعتقاد کی درستی اور بچی تو بہ کرنی ضروری ہے اور اگر یہ تو بہ اپنی حد کو پہنچ جائے گی تو اس کا گناہ بخشا جائے گا۔ اور وہ اپنے دل میں ایک فرحت محسوس کرنے لگے گا لیکن اگر وہ گناہ جسم و روح دونوں سے مشترک سرزد ہوا ہے تو چاہئے کہ دونوں ہی مل کر توبہ کریں اور اگر اس صورت میں تو بہ کامل ہو گی تو دونوں سزا سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر روحانی تو بہ کامل اور جسمانی ناقص ہوگی تو روح تو بچ جائے گی لیکن جسم اپنی سزا بھگتا رہے گا۔ مثلاً ایک شخص نے زنا کیا تو ایک تو اس کی روح نے خدا تعالیٰ کا گناہ کیا اور ایک اس کے جسم نے کہ وہ بھی روح کے شریک حال ہوا۔ پس ایک تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں گناہ گار ہو کر روحانی عذاب کا مستوجب ہو گا۔ خواہ وہ یہاں ملے یا آخرت میں اور ایک سزا اس کے جسم کو ملے گی اور وہ آتشک یا سوزاک کی شکل میں ہوگی۔ پس اگر ایسا شخص تو بہ کرتا ہے تو اگر اس کی توبہ کامل ہے یعنی اس نے پورے طور سے اپنے گناہوں کی معافی بھی چاہی اور سچے دل سے علاج بھی کروایا تو ایسا شخص اس گناہ کی سزا سے بچ جائے گا۔ اور اگر اس نے روحانی تو بہ تو نہ کی۔ مگر علاج کروایا اور وہ اپنی حد کو پہنچ گیا تو اس کا جسم سزا سے بچ جائے گا۔ یعنی آتشک سے وہ نجات پا جائے گا مگر اس کی روح اب بھی گنہگار ہوگی اور اگر روحانی تو بہ کامل ہوگی اور علاج میں کسی وجہ سے نقص رہا۔ تو روح بچ جائے گی۔ مگر جسم سزا بھگتا رہے گا۔ پس چونکہ جسم اور روح الگ الگ حصہ ہیں اور ان دونوں کے علاج الگ الگ ہیں اس لئے دانا انسان وہی ہے کہ جو تو بہ کے وقت خیال رکھے کہ میں نے گناہ صرف روحانی کیا ہے یا اس میں