انوارالعلوم (جلد 1) — Page 272
انوار العلوم جلد 1 ۲۷۲ م کی دعا ساتھ مل جاوے کہ جو اس کے لئے رحمت کا باعث ہو جائے ۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں طب رہ گئی وہاں تو بہ و دعا نے کام نکال دیا ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے لفظ ہی تھے کہ رَبِّ لَا تُذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (نوح: ۲۷) کہ جنہوں نے آدمیوں پر ہی نہیں پانیوں پر بھی اثر کر دکھلایا۔ مسیح کے پاس جب اندھوں اور کوڑھیوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی تو اس نے ان کو اچھا کیا۔ کیا یہ جسم پر اثر نہ تھا۔ رسہ پر اثر نہ تھا۔ رسول اللہ کے مخالفین نے جب قحط کا عذاب پایا اور گھبرا کر توبہ کی تو بارش نازل ہوئی اور بارش سے تنگ آگئے تو بند کی گئی یہ اجسام پر ہی اثر تھا یا کچھ اور ۔ ہمارے حضرت صاحب کے پاس کئی بیمار آئے اور آپ نے ان کو بھی تو بہ کرنے کے لئے کہا اور دعا بھی کی آخر وہ لوگ اپنے دکھوں سے بچ گئے۔ پس کون کہہ سکتا ہے کہ تو بہ سے جسمانی بیماریاں کیوں دور نہیں ہوتیں۔ جب تو بہ کامل ہوتی ہے تو ضرور ہوتی ہیں۔ مگر چونکہ انسان جسم اور روح سے مرکب ہے اس لئے اسے عموماً چاہئے کہ روح کی بیماریوں کے لئے روحانی تو بہ کرے اور جسم کی بیماریوں کے لئے جسمانی تو بہ یعنی علاج اور یہی اصل اور سچا طریق ہے ہاں خدا تعالیٰ نے مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے ایسی مثالیں بھی پیدا کر چھوڑی ہیں کہ صرف تو بہ و دعا سے جسمانی بیماریاں بھی دور ہو جاتی ہیں اگر کوئی شہر چشم انکار کرے تو اور بات ہے۔ اگر تو بہ کا مسئلہ ایسا ہی سچا اور اپکا ہے تو دنیاوی گور نمنٹیں کیوں مجرموں کو ان پانچواں اعتراض کے تو بہ کرنے پر چھوڑ نہیں دیتیں؟ یہ اعتراض بھی تو بہ کے منکر بہت کیا کرتے ہیں کہ کیوں دنیا میں لوگ ایک دوسرے کی توبہ قبول نہیں کر لیا کرتے ۔ اور عدالتیں کیوں سزا دیتی ہیں۔ کیوں نہیں مجرموں کے اقرار پر اور آئندہ احتیاط کے وعدہ پر ان کو چھوڑ دیتیں۔ یاد رہے کہ جیسا کہ پہلے میں لکھ آیا ہوں خدا تعالیٰ علیم و خبیر ہے اور دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ اور سچے اور جھوٹے کو جانتا ہے اور خفیہ اور پوشیدہ اسرار اس پر ظاہر ہیں اور کوئی بات نہیں جو اس سے پوشیدہ ہو خواہ سمندروں کی تہہ میں کوئی چیز بیٹھی ہوئی ہو یا پانیوں کی گہرائیوں میں۔ خواہ مچھلی کے پیٹ میں خواہ عمیق کانوں میں خواہ پہاڑوں میں خواہ کنووں میں خواہ ہواؤں میں ملی ہوئی ہو، خواہ انسانی دماغ میں خیالات کے رنگ میں پوشیدہ ہو، خواہ آسمان پر ہو، خواہ زمین میں، خواہ مادی ہو، خواہ غیر مادی خواہ زمانہ ماضی کی ہو یا حال کی یا استقبال کی وہ ایسا علیم ہے کہ کوئی معلوم اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں پس اس کا تو بہ کو قبول کرنا اور رنگ کا ہے اور گر ہے اور گورنمنٹ کا نجات