انوارالعلوم (جلد 1) — Page 269
انوار العلوم جلد 1 ۲۶۹ نجات لیتے ہیں۔ مثلاً ایک نوکر ہم کو ناراض کرے اور ہمارا کوئی کام خراب کر دے مگر پھر تو بہ کرے اور اپنی غلطی کا اقرار کرے اور اپنی سچائی کو پوری طرح سے ظاہر کر دے اور ثابت کر دے کہ بیشک اب وہ سخت پشیمان ہے تو ہم اس کا کوئی اپریشن نہیں کرواتے نہ اس پر کوئی عمل جراحی کرتے ہیں کہ جس سے اس نے جو کچھ تصور کیا تھا وہ معدوم ہو جائے بلکہ یہی کرتے ہیں کہ جو اس نے کیا تھا اس کے نتیجہ سے اس کو بچا لیتے ہیں اور سزا نہیں دیتے۔ خود لفظ تو بہ کے معنی ہی رجوع کرنے کے ہیں یعنی جب انسان کچھ قصور کرتا ہے تو پھر وہ اپنی غلطی کا اقرار کرتا ہے اور اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس وقت مالک بھی اپنی مہربانی کی طرف لوٹ آتا ہے اور پہلا سا سلوک کرنے لگتا ہے پس تو بہ کے قبول ہونے کے یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ اس فعل کی جو انسان سے سرزد ہوا تھا سزا نہیں دیتا بلکہ اپنی پہلی مہربانی پر لوٹ آتا ہے۔ پس اس سے تو قطعا یہ نہیں پایا جاتا کہ اس سے گناہ سرزد نہیں ہوا۔ بلکہ یہ معلوم ہوا کہ ا کہ انسان نے گناہ کر کے پشیمانی ظاہر کی اور خدا تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور سزا سے بچالیا۔ اور اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتہ لوگ ہمیشہ گناہ کرتے ہیں اور شریف اور محسن آقا ان کے گناہ بخشاہی کرتے ہیں۔ ابھی بادشاہ جارج پنجم کے تخت نشین ہونے پر پانچ سو سال کی قید معاف کی گئی ہے ۔ کیا گورنمنٹ نے ان کے قصور کسی طرح مٹا دیئے تھے یا کسی خاص اوزار سے چھیل دیئے تھے ؟ اگر گورنمنٹ بغیر کسی وقت کے یہ کام کر سکتی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کے پچھلے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ اور اگر کرے تو اسی صورت میں کہ پہلے کسی ہتھیار سے ان کے گناہوں کو چھیل دے ۔ افسوس اور تعجب ہے اس قسم کے معترضین پر۔ توبہ کی قبولیت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر تو بہ واقعی قبول ہوتی ہے تو چوتھا اعتراض چاہئے کہ ایک زانی جب تو بہ کرے تو زنا کے سبب سے جو آتشک یا سوزاک اسے ہوا تھا وہ دور ہو جائے۔ اسی طرح دوسرے نتائج جو گناہ کی وجہ سے بھگت رہا ہے ان سے نجات پا جائے مگر واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ آتشک کا مریض ہزار تو بہ کرنے پر پھر بھی اس مرض میں گرفتار رہتا ہے یا کسی اور گناہ کی وجہ سے اسے کوئی صدمہ پہنچ گیا تھا۔ تو وہ بھی موجود رہتا ہے دور نہیں ہوتا تو ہم کس طرح مان سکتے ہیں کہ تو بہ کا کوئی اثر ہے اور واقعی اس سے انسان بدی کے نتائج سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک جسم ہے اور ایک روح سے اور دونوں کے