انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 266

انوار العلوم جلد 1 ۲۶۶ ہے۔ دوسرے تو بہ تو اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص یک لخت اپنی غلطی پر آگاہ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آئے اور اس کا دل غم کے مارے پگھل جائے اور وہ رنج والم کے پہاڑوں کے نیچے دب جائے مگر اس ارادہ سے گناہ کرنے والا انسان کہ میں ایک مدت تک گناہ کر کے پھر چھوڑ دوں گا تو پہلے سے ہی ایک سکیم تیار کر چکا تھا۔ اس کی جھوٹی تو بہ تو بہ کھلا ہی کب سکتی ہے اور ایسے شخص کا دل تو ایسا ہو گا کہ اسے تو بہ کا موقعہ ہی نہ ملے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (المائده : إِنَّا إِنَّ ١٠٩) اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُشْرِفٌ: ف كَذَّاب (المؤمن : وَاللهُ ٢٩) لا يَهْدِي ) الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ گناہوں کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ( البقره : ۲۵۹)۔ ۲۵۹) پس پھر کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نے توبہ کا دروازہ کھول کر گویا دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ مخالف کا اعتراض مان کر بھی تو بہ گناہوں کی محرک تب ہو سکتی تھی کہ اگر انسان کو اس کی موت کا وقت بتا دیا جاتا کہ فلاں شخص فلاں وقت مرے گا اور فلاں فلاں وقت مرے گا۔ کیونکہ اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ بعض لوگ کہتے کہ مرنے سے پہلے توبہ کرلیں گے لیکن خدا تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ اَرْضِ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (لقمان : ۳۵) یعنی اللہ ہی جانتا ہے کسی کی مقررہ گھڑی کب آئے گی۔ اور وہی بارش نازل کرتا اور رحموں میں جو کچھ کہ ہے اسے جانتا ہے اور نہ کوئی جانتا ہے کہ اس نے کل کیا کچھ کمانا ہے اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اس کو کس مقام پر موت آنی ہے ۔ ہاں اللہ تعالٰی تو بڑا جاننے والا اور خبردار ہے۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ زمانہ اور مکان دونوں کی نفی فرماتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ نہ تو انسان یہ جانتا ہے کہ وہ کب مرے گا کیوں کہ اس صورت میں وہ موت سے پہلے تو بہ کر سکتا ہے اور نہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کہاں مرے گا۔ کیونکہ اس صورت میں شریر آدمی اس مقام پر جاتے ہیں نہ اور اگر جانا پڑتا تو وہاں رہنے کے زمانہ میں تو بہ کرتے تب بیشک فساد کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ مگر انسان کو نہ اپنے مرنے کے ایام معلوم نہ مقام معلوم اور علاوہ اس کے فرماتا ہے کہ وہ یہ بھی تو نہیں جانتا ہے کہ کل اس کے حالات کیسے ہوں گے آیا توبہ کی توفیق ملے گی یا نہیں کیونکہ وہ ناواقف ہے کہ کل اس نے کیا کمانا ہے۔ پس اس آیت نے اس اعتراض کا کامل جواب دے دیا ہے کیونکہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ بوڑھے ہی نہیں بچے بھی اور جوان بھی اور ادھیڑ بھی مرتے رہتے ہیں اور بیماریاں انسان پر ایسی اچانک آتی ہیں کہ ایک منٹ میں جان کا خاتمہ کر دیتی ہیں بعض دفعہ نجات