انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 265

انوار العلوم جلد | ۲۶۵ جاتا ہے یا سزا میں بہت تخفیف کی جاتی ہے۔ اور باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ حج کے پاس کوئی بدیہی ثبوت اس بات کا نہیں ہوتا کہ واقعی یہ فعل کس ارادہ سے ہوا تھا۔ مگر جس ہستی کے ساتھ تو بہ کا معاملہ در پیش ہے اسلامی عقائد کی رو سے وہ علیم و خبیر اور جبار ( مصلح) ہے اور اسلام کا خداذرہ ذرہ سی بات کو جانتا ہے اور کوئی چیز نہیں خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی جو اس کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو پھر اس سے کسی کا ارادہ کس طرح مخفی ہو سکتا ہے اور وہ بغیر ارادہ کا لحاظ کرنے کے کس طرح کسی مجرم کو سزا دے سکتا یا چھوڑ سکتا ہے۔ حالانکہ وہ رحم کرتا ہے اور ظلم نہیں اور فساد نہیں بلکہ اصلاح چاہتا ہے۔ چنانچہ سورۃ مائدہ میں فرماتا ہے کہ لكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَ كُمُ (المائدہ (۷) یعنی الله تعالی ارادہ کرتا ہے کہ تم کو پاک کرے۔ پس ایسا شخص تو گند پھیلاتا ہے اور توبہ کے بہانہ سے دنیا میں فساد چاہتا ہے۔ پس وہ کب اس قابل ہو سکتا ہے کہ اس گندے ارادہ کے ساتھ تو بہ کے دروازہ میں داخل کیا جائے ۔ چنانچہ خدا تعالی تو ایسے خبیث لوگوں کے لئے فرماتا ہے کہ اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّ عَادَ خُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَ طَمَعًا إِنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ (الاعراف: ۵۷٬۵۷) یعنی خبردار خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرنے میں شوخی اور شرارت سے کام نہ لو۔ بلکہ جب اسے پکارو تو بڑی عاجزی اور تضرع سے پکارو اور علاوہ اس کے لوگوں سے بالکل الگ ہو کر بھی اسے یاد کرتے رہا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو نا پسند کرتا ہے اور یاد رکھو کہ و در کھو کہ وہ احکام جو بغرض اصلاح اترے ان کے نزول کے بعد فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کو خوف و طمع سے یاد کرو۔ اور اللہ تعالی کی رحمت محسنین سے قریب ہے پس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو احکام اصلاح کے لئے اترے ہیں اگر تم باوجود ان کے اترنے کے فریبوں کے ساتھ شرارت اور فساد کی راہ تلاش کرو گے تو تمہارا انجام نیک نہ ہو گا۔ پس جو شخص اس بدارادہ سے گناہ کرتا ہے کہ توبہ کی آڑ میں میں سزا سے محفوظ رہوں گا۔ وہ سخت دھوکے میں ہے اور سخت ٹھوکر کھائے گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ دھوکہ نہیں کھاتا۔ اور ایسا دھو کہ دینے والا انسان تو مؤمن ہی نہیں کیونکہ اس کو صفات اللہ پر ایمان ہی نہیں کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ خدا تعالیٰ ان سب کمزوریوں سے پاک ہے پس اس قسم کے ارادہ والا انسان تو بجائے اس کے کہ تو بہ سے کچھ فائدہ اٹھائے تو بہ سے پہلے ہی ہلاک کیا جائے گا اور عذاب الہی اس پر نازل ہو گا۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو ایسا ناقص سمجھتا ہے کہ وہ دھوکے میں آجاتا ہے اور اس وجہ سے اسے دھو کہ دینا چاہتا نجات