انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 267

انوار العلوم جلد 1 ۲۶۷ نجات دیکھا گیا ہے کہ انسان سوتے سوتے مر گیا۔ بعض دفعہ محفل دوستاں میں قہقہہ لگاتے لگاتے جان نکل گئی۔ بیٹھے تھے کھڑے ہوئے اور گر کر مر گئے۔ کام کرتے ہوئے دل کو ایسا صدمہ پہنچا کہ دستخط نصف ہی رہ گیا اور مرغ روح قالب عصری سے پرواز کر گیا۔ سیڑھیاں چڑھنے لگے کہ ایک پیراد پر رکھا اور ایک نیچے کہ جان نکل گئی۔ دیوالہ نکل گیا اور ساتھ ہی پیغام اجل بھی آگیا۔ ایک دست آیا اور ختم۔ نکسیر پھوٹی اور سرد ہو گئے ۔ ہیضہ آیا اور چل دیئے ۔ طاعون آئی اور گھر کا گھر برباد کر گئی۔ غرض ایک نہیں لاکھوں نظیریں ہر سال اس قسم کی پائی جاتی ہیں وبائیں اندرونی اور بیرونی بیماریاں، رنج و انسان غم ، دشمنوں کے حملے ، لڑائیاں ، فساد بغاو فساد بغاوتیں ، زلزلہ ، طوفان ، بجلیاں ہزاروں چیزیں ہیں کہ ان کی جان کے درپے ہیں اس سے بچے تو اس میں جا پڑے، اس سے نجات پائی تو تیسری در پیش ہے غرضیکہ اس صورت میں ممکن ہی نہیں کہ انسان کہے کہ اب تو گناہ کر لو پھر توبہ کرلیں گے ممکن ہے که اس ارادہ کے دل میں آتے ہی جان نکل جائے ۔ پس چونکہ موت کا نہ زمانہ نہ مکان انسان کو بتایا گیا ہے اس لئے تو بہ پر یہ اعتراض نہیں آسکتا کہ اس طرح گناہوں پر دلیری ہو گی اور یہ اعتراض تو خود مسیحی صاحبان پر بھی پڑتا ہے۔ کیونکہ جب کفارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہوں سے بچ سکتا ہے تو کفارہ بدرجہ اولی بدیوں کی ترغیب دلانے والا ہے۔ تو بہ کے مسئلہ پر اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کی عقلوں پر تو مجھ کو سخت تعجب آتا ہے کیونکہ تو یہ جن لوگوں کے لئے ہے ان کا ذکر تو خود قرآن شریف نے کر دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ وَ الَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَ مَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْ رَبِّهِمْ وَ جَنَّتَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خَالِدِينَ فِيهَا وَ نِعْمَ أَجْرُ الْعُمِلِينَ (آل عمران : ۱۳۷۱۳۶) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تو بہ انہیں لوگوں کے لئے ہے جو شرارت سے فساد پھیلانا نہیں چاہتے بلکہ غلطیوں یا غفلت کی وجہ سے گناہوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور پھر اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتے پھر قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ پر ہے وَإِذَا جَاءَ لَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِايْتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَانهُ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (الانعام: ۵۵) اس آیت سے علاوہ اس کے کہ خدا تعالیٰ کی رحیمیت ثابت ہوتی ہے یہ بھی ظاہر ہے کہ تو بہ انہی لوگوں کے لئے ہے جو مذہب ، ملک رسم و عادت نا مناسب تعلیم ، ضد اور غفلت اور بد صحبت کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں نہ کہ ان کے لئے جو