انوارالعلوم (جلد 1) — Page 259
انوار العلوم جلد 1 ۲۵۹ نجات کافر ہوتے ہیں یعنی جن کو اس کے لطف اور کرم پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ اور جو اس کی مہربانیوں کو جو کہ پیدائش کے دن سے اس دن تک ان پر ہوئی ہوتی ہیں بھلا چکے ہوتے ہیں کیونکہ اگر وہ ایماندار ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر نہ کر چکے ہوتے تو کبھی بھی یہ گمان نہ کرتے کہ خدا تعالی آڑے وقت میں ان کے کام نہ آئے گا اور توبہ قبول نہ کرے گا پھر اور بہت سی جگہوں میں بار بار فرماتا ہے که تو به کرد تو به قبول ہو گی چنانچہ فرماتا ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نصُوْحاً عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَ يُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ (التحریم : 9) یعنی اے لوگو جن کو مجھ پر ایمان آگیا ہے میری طرف توبہ کرو اور ایسی تو بہ کہ جو خالص ہو تو قریب ہے کہ میں جو تمہارا رب ہوں۔ تمہاری بدیوں اور گناہوں اور خطاؤں اور کمزوریوں اور نقصوں کو دور کردوں اور پردہ ڈالدوں اور اس کے بعد تم کو وہ مدارج عنایت کروں کہ تم دین و دنیا میں بڑے ہو جاؤ۔ اور میرے انعامات و اکرامات کے مستحق بن جاؤ اور ملکوں کا بادشاہ تم کو بنا دیا جائے۔ پس اس جگہ خدا تعالیٰ نے اپنے گنہگار بندوں کو دلیری دی ہے اور کہا ہے اگر تمہارے دل ایمان کی طرف جھک گئے اور تم نے مجھے پہچان لیا ہے تو آؤ تو بہ کرو تاکہ تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں اور انعامات الہیہ کے تم وارث ہو جاؤ اور پھر فرماتا ہے کہ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقْتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (التوبہ : ۱۰۴) یعنی کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی تو ہے جو کہ تو بہ کو قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور صدقات لیتا ہے اور یہ کہ تحقیق اللہ تعالی بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے اس جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ اصل میں تو خدا تعالی ہی تو بہ قبول کرتا ہے اور کوئی نہیں جو کہ توبہ قبول کرے جس کا یہ مطلب ہے کہ اول تو لوگ خدا تعالیٰ جیسے مہربان اور عنایت فرما ہو نہیں سکتے دو سرے جو لوگ مہربانی کرتے ہیں وہ بھی تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں کو کام میں لاتے ہیں اس لئے اصل تو یہ اللہ ہی قبول کرتا ہے پس خدا تعالی نے یہ بتایا ہے کہ انسانوں نے تو یہ کیا قبول کرنی ہے اصل تو بہ تو میں قبول کرتا ہوں کیونکہ میں سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہوں پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ غَافِرِ الذَّنْبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ (المؤمن :) یعنی اللہ تعالیٰ گناہوں کا بخشنے والا اور تو بہ کا قبول کرنے والا ۔ کرنے والا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ وہ سزادے نہیں سکتا بلکہ وہ شدید العقاب ہے۔ ہاں یہ مہربانی اس لئے ہے کہ وہ ذی الطول یعنی انعام کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اسی کی طرف پھر جانا ہے۔ غرض کہ اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں کل نیک صفات