انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 260

انوار العلوم جلد 1 ۲۶۰ نجات پائی جاتی ہیں اور جو کوئی کسی نیک صفت کو اس سے الگ کرتا ہے گویا کہ وہ اس میں نقص مانتا ہے اور اس طرح ناقص قرار دے کر اس کے قائم بالذات ہونے سے بھی منکر ہے اور میں نے بتایا ہے که انسانی خلقت میں بھی رحم بھراج م بھرا ہوا ہے اور یہ کہ عدل رحم سے نچلے درجہ کی ایک صفت ہے اور خدا تعالی جو تمام محاسن کا جامع ہے رحم سے کبھی بھی الگ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ وہ بڑار حیم کریم ہے اور جب کوئی شخص اپنے گناہوں سے سچے دل سے پچھتائے اور خدا کے حضور میں تو بہ کرے تو چونکہ وہ ماں باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے اس لئے جیسا کہ ماں باپ اپنی اولاد کا قصور معاف کرتے ہیں اس سے زیادہ اور بہت زیادہ وہ اپنے بندوں کا قصور معاف کرتا ہے اور میں نے قرآن شریف سے ہر ایک بات کا ثبوت دیا ہے پس اب ہر اک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جیسے اسلام نے پچھلے گناہوں سے عذاب سے بچنے کا طریق بتایا ہے اور جس قسم کی نجات اسلام نے بیان فرمائی ہے وہ کسی مذہب نے بیان نہیں کی اور چونکہ اسلام کی نجات ہی فطرت انسانی اور مشاہدہ قدرت سے اور عقل سے ثابت ہوتی ہے اس لئے سوائے اس کے اور کوئی نجات ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے که با اخلاق انسان تو رحم کے پتلے ہوتے ہیں مگر وہ خدا جو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان اور سب شفیقوں سے زیادہ شفیق ہے وہ اس صفت سے محروم ہو ۔ گویا کہ وہ ایک معشوق ہے کہ جس کا ایک عضو ندارد ہے پس ایسا خدا قائم بالذات خدا ہو سکتا ہے ؟ نہیں اور ہر گز نہیں پس یہ تمام نقص جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں صرف صفات الہیہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور چونکہ اسلام تمام زمانہ کی دست برد سے پاک ہے اور قرآن شریف ایک ہی محفوظ کتاب ہے اس لئے اس مسئلہ کو اسی کتاب نے ٹھیک طور پر حل کیا ہے اور ایسا پاک اور نقائص سے مبرا خدا انسان کے سامنے پیش کیا ہے کہ جس کی شفقت اور رحمت کو دیکھ کر مردہ دل زندگی پاتے اور گمراہ ہدایت حاصل کرتے ہیں پس اصل نجات وہی ہے جو کہ اسلام نے بیان فرمائی ہے۔ ایک اور پہلو سے نظر ڈالنے پر بھی میرے اس بیان کی تصدیق ہوتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں تین قسم پر ہر ایک چیز منقسم ہوتی ہے ۔ ادنی اوسط اور اعلیٰ ۔ اونی پر اوسط بہر حال افضل مانی جائے گی اور اوسط پر اعلیٰ کو فوقیت ہو گی۔ اور اس رو سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ظلم صفات میں سے ادنی ہے کیونکہ اس کے معنی ہیں ایک چیز کو غیر موقعہ پر رکھنا اور اس طرح پر کسی کی حق تلفی کرنی اور اس سے اوپر پھر عدل کی صفت ہے کہ جس کے معنی ہیں کہ جس کا جتنا حق تھا اس کو اسی قدر دے دینا یعنی اگر کوئی شخص ایک روپیہ کا مستحق ہے تو اس کو بغیر کمی یا زیادتی کے ایک روپیہ ہی حوالہ کر دینا۔ اور