انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 258

انوار العلوم جلد 1 ۲۵۸ ہر قسم کے سامان ہمارے لئے مہیا کئے اور ذرہ ذرہ چیز کا خیال رکھا اور کوئی چیز نہ رہی کہ جس کی ہم کو ضرورت ہو اور اس نے اسے پیدا نہ کیا ہو اور کوئی سامان نہ رہا جو ہمارے لئے آرام کا موجب ہو اور اس نے اسے نظر انداز کر دیا ہو جس نے ہماری پرورش کے لئے والدہ کی چھاتیوں میں سے دودھ نکالا اور ہم کو نا معلوم ذریعوں سے اس کے پینے کا علم سکھلایا ۔ جب کہ کوئی شئے ہم کو کچھ نہ سکھلاتی تھی اور جس نے چرند پرند اور درند پر ہم کو حکومت بخشی اور چاند اور سورج کو ہمارے لئے مسخر کیا اور عناصر کو ہمارے تابع فرمان بنایا ۔ کیا ہمارے گناہوں پر چشم پوشی نہ کرے گا اور ہماری خطاؤں سے درگزر نہ کرے گا؟ اور جبکہ ہم اس کے پاس اپنی کمزوریوں سے واقف ہو کر مدد کے لئے جائیں۔ اور ہمدردی کے لئے چلا ئیں اور ہمارے سینے فرطِ غم سے پھٹ جائیں اور دوزخ کا نظارہ ہماری آنکھوں کے سامنے پھر جائے اور کرب واندوہ سے ایک دیوانگی طاری ہو جائے تو کیا وہ مہربان اپنی محبت کے دامن کو ہم سے الگ رکھے گا اور ہم پر نہیں ڈالے گا۔ اور کیا ایسے وقت میں اپنی الفت کی چادر میں ہم کو نہیں لپٹائے گا۔ اس کی مہربانیاں اور بندہ پروریاں ظاہر کرتی ہیں اور فطرت انسانی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ رحیم کریم ہستی وہ مہربان ذات جو ماں باپ سے زیادہ مہربان اور عزیز و اقرباء سے زیادہ محبت کرنے والی اور بھائی بندوں سے زیادہ الفت رکھنے والی اور بیوی بچوں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے ضرور ضرور اور ضرور ہماری تو بہ کو قبول کرے گی اور ہمیں ہلاکت کے گڑھے سے نکال لے گی کیونکہ جب کہ ہم اپنے پیاروں کی توبہ قبول کرتے اور اجنبیوں پر رحم کرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ مہربان خدا ہم پر رحم نہ کرے گا۔ یہ خیال اس کی نسبت دل میں لانا بھی کفر ہے اور وہ بڑا پاک ہے اور بڑا مہربان ہے۔ وہ ہم کو اپنے پاک کلام میں بتاتا ہے کہ ہر گز نا امید مت ہو اور مایوسی میں نہ پڑو ۔ بلکہ جب تم اپنے گناہوں پر آگاہ ہو جاؤ اور نیکی کی قدر کو پہچان لو تو فورا توبہ کرو اور یہ خیال مت کرو کہ اب کیا ہو گا۔ اب تو تم بہت سے گناہ کر چکے ہو اور جہنمی ہو چکے ہو بلکہ ہر وقت میری رحمت کے امیدوار رہو کہ میں ماں باپ سے زیادہ مہربان ہوں اور بیوی بچوں سے زیادہ خیر خواہ ۔ اور ایک جگہ ہی نہیں بلکہ بیسیوں جگہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے اس مضمون میں کہا ہے کہ میں بخشنہار ہوں اور خطاؤں کو معاف کرتا ہوں اسی لئے نا امید ہونے والے کو کافر کہا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ لا تَا يُنَسُوا مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَا يُنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (يوسف ون (یوسف: ۸۸) یعنی اے لوگو ! تم خدا تعالیٰ کی مہربانی سے ناامید مت ہو کیونکہ اس کی رحمت سے وہی لوگ نا امید ہوتے ہیں کہ جو نجات