انوارالعلوم (جلد 1) — Page 213
انوار العلوم جلد | ۲۱۳ این حق کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں خدائے تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ میں تمام عالموں کا رب ہوں یعنی خواہ کسی ملک کا باشندہ ہو یا کوئی زبان بولنے والا ہو یا کیسے اخلاق سے ہی متصف ہو سورج اور چاند اور دیگر ستارے اور پانی اور ہوا اور زمین اور آگ اور جمادات اور نباتات میں نے ہر قسم کے لوگوں کی ربوبیت کے لئے پیدا کر دیئے ہیں۔ کسی سے بخل نہیں کیا کیونکہ میں رب العالمین ہوں سو اسی طرح صاف بات ہے کہ جب سب دنیا میری بنائی ہوئی ہے اور میں نے ان کے لئے جسمانی آسائش اور آرام کے سامان مہیا کئے ہیں تو کیا ان کی روح کے لئے کچھ فکر نہ کروں گا سو جیسا کہ میں جسمانی عالم کا پرورش کرنے والا ہوں ایسا ہی روحانی عالم کا بھی ہوں جیسا کہ فرمایا کہ قُلْ أَرَعَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيْكُمْ بِمَاءٍ مَّعِينٍ ( الملک : ۳۱) یعنی ان سے کہو کہ اگر تمہارا پانی سوکھ جائے تو کون ستھرا پانی عنایت کرتا ہے یعنی جبکہ تم کو اس جسمانی زندگی کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا نازل کرتا ہے تو کیا روحانی زندگی جو ابدی ہے اس کے لئے الہام الہی یا الهام الهی یا پانی نازل نہ کرے گا۔ پھر دوسری جگہ فرمایا کہ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي (بنی ) ابنی اسرائیل : ۸۶) یعنی کہہ دے کہ یہا کہہ دے کہ یہ الہام روحی جو روحی جو ہے یہ تو ربوبیت کی صفت کے ماتحت لازمی ہے اور ربوبیت سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ پس جسمانی ربوبیت کو دیکھتے ہوئے اس کے کیوں منکر ہوتے ہو اور پھر قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا ہے کہ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) یعنی کوئی قوم نہیں جس میں ہم نے اپنا مامور نہ بھیجا ہو سو اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے بدلا ئل ثابت کیا ہے چونکہ ربوبیت عام ہے اس لئے جسمانی رنگ میں بھی عام ہے اور روحانی رنگ میں بھی یعنی ہر ایک قوم کے باشندوں کو جو الہام الہی پانے کے مستحق ہوں الہام کیا جاتا ہے یعنی وہ رحمانیت و رحیمیت کے مقتضی کو پورا کرتے ہوئے يَوْمُ الدِّین میں پاس ہو جائیں تو ان کے لئے الہام الہی کا دروازہ کھلا ہے اور چونکہ یہ ربوبیت ہر زمانہ کیلئے ہے اس لئے اسلام نے ہر زمانہ میں ایک مجدد بتلایا ہے تاکہ لوگ الہام کو ہر زمانہ میں دیکھتے اور آزماتے رہیں۔ پس بتاؤ کہ کیا وہ مذہب جو یہ بتاتا ہے کہ میں نے کسی زمانہ میں اپنے پیرڈوں کو خدا سے ملایا تھا سچا ہو گا؟ یا وہ جو کہتا ہے کہ میں ہر وقت دکھا سکتا ہوں؟ اور کیا وہ مذہب جو خدائے تعالیٰ کی سب نعمتوں کو ہر زمانہ اور ہر مکان کے لئے عام کرتا ہے محبت کے قابل ہے یا وہ جو خدا کو اب معطل مانتا ہے گویا کہ اب وہ بہرہ ہے۔ پس اب میں گنجائش کے مطابق کافی طور سے لکھ چکا ہوں کہ اسلام ہی ہے جو انسان اور خدا کے تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کے دل میں اس خالق حقیقی کی محبت کا فوارہ جاری کر دیتا