انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 212

انوار العلوم جلد ؛ ۲۱۲ دین حق خدا کہ ایک معشوق نہایت خوبصورت ہو مگر اس کی ناک کٹی ہوئی ہو یا اندھا ہو یا بھرا ہو یا کان ندار دیا ہاتھ پاؤں سے عاری ہو کیونکہ اگر کوئی مذہب خدائے تعالیٰ کو ایسے رنگ میں پیش کرے کہ اس میں صفات حسنہ کامل طور سے نہ پائی جائیں یا یہ کہ اس میں کسی قدر کمزوری رہ جائے یا بدی پائی جائے تو ایسا مذہب بالکل جھوٹا ہے کیونکہ وہ نہ صرف خدا کو نا قص قرار دیتا ہے بلکہ نقص کو مان کر چونکہ خدا کا حادث ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اس لئے قریباً خدا کا منکر ہی ہے۔ پس جیسا کہ ہم اوپر بتا آئے ہیں ئے جہان و جهانیان نے اسلام میں قرآن شریف میں اپنی صفات حسنہ آپ ہی بتائی ہیں کیونکہ وہ غیر محدود ہے اور اس کی صفات کی کنہ اور اصلیت کو سوائے اس کے کوئی اور ہستی نہیں پہنچ سکتی کیونکہ اس کے سوا سب چیزیں محدود ہیں اور جیسا کہ میں اوپر ثابت کر آیا ہوں ان مذکورہ بالا آیتوں میں ان کا نچوڑ بیان فرمایا ہے اور کوئی نیک صفت نہیں جو کمال کو چاہتی ہو اور خدائے تعالیٰ میں اسلام نے ثابت نہ کی ہو مگر اس کے برخلاف دیگر مذاہب میں ایسا نہیں ہے اور اگر ہے تو یہ بار ثبوت ہمارے مخالفین پر ہے کہ ان کی الہامی کتب نے بھی خدائے رحیم کی صفات پر ایسی روشنی ڈالی ہے اور اگر ایسا نہیں کیا اور میں دعوی سے کہتا ہوں کہ قطعا ایسا نہیں کیا تو پھر جبکہ انہوں نے خدائے تعالی کی ان صفات کو جو انسان سے تعلق رکھتی ہیں بیان ہی نہیں کیا تو لوگ خدائے تعالی کو سمجھ ہی کیا سکتے ہیں یعنی جبکہ ان کو بتایا ہی نہیں گیا کہ خدائے تعالی کون ہی ہستی ہے اور اس میں کونسی صفات پائی جاتی ہیں تو پھر انسان کو اس سے تعلق پیدا کرانا کس طرح ممکن ہے ایک چیز جس کا زید کو علم ہی نہیں وہ اس سے محبت کیونکر کر سکتا ہے یہ ممکن ہے کہ ایک چیز ہی نہ ہو اور وہمی طور سے اس کی ایک تعریف کر کے انسان اس سے محبت کرنے لگے جیسے بعض لوگ کیمیا ہے ۔ لیکن نہیں ہو سکتا کہ ایک چیز کو انسان جانتا ہی نہ ہو نہ وہمی طور سے نہ علمی طور سے اور نہ یقینی طور سے اور پھر اس سے محبت بھی کرے اور تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرے ۔ پس جبکہ غیر مذاہب خدا کی صفات پر شنی ڈالتے ہی نہیں اور اگر ڈالتے ہیں تو اس کو نکٹا اندھا بہرایا بے دست وپا بتا۔ د پا بتاتے ہیں تو اسلام کے مقابلہ پر جو خدا کو کل صفات حسنہ کا متصف اور برائیوں سے مبرا قرار دیتا ہے کیو نکر ٹھہر سکتے ہیں پس اصل اور سچی بات یہی ہے کہ سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب خدا کو اس رنگ میں پیش نہیں کرتا کہ اس سے محبت ہو سکے بلکہ ان کے پیش کردہ اصول کے مطابق خدا سے گھن آتی ہے اور نفرت پیدا ہوتی ہے پس اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے۔ اس کے علاوہ انہی آیات سے ایک اور بھی بات نکلتی ہے جو کہ اسلام کی سچائی اظہر من الشمس