انوارالعلوم (جلد 1) — Page xxiii
انوار العلوم جلدا تعارف کتب دوسرے جانوروں کو کھانے پر ہے اور اگر یہ ظلم ہے تو پر میشور کی طرف سے ہے۔ لیکن پر میشور کی طرف ظلم منسوب نہیں ہو سکتا۔ گوشت خوری خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے رحمت کے طور پر ہے۔ کیونکہ بہت سی چیزیں جن کی انسانی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ وہ گوشت سے مہیا ہوتی ہیں۔ اور نظام کائنات ہمیں بتا رہا ہے کہ بعض کی زندگی کا انحصار ہی گوشت پر ہے اور یہ نظام خدا تعالی کا پیدا کردہ ہے۔ جو مسلم طور پر ظالم نہیں ہے۔ (۱۳) مدارج تقویٰ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے جلسہ سالانہ ۱۹۱۱ء کے موقعہ پر جو تقریر فرمائی تھی۔ وہ مدارج تقوی کے نام سے ۱۹۱۹ء میں شائع ہوئی۔ اس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ تقوی ہے ۔ خدا تعالیٰ نے اس کے حصول کے دو طریق بیان فرمائے ہیں۔ یعنی (1) انعام - (۲) عتاب - خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں جیسے رزق ہوا روشنی پانی ، سورج چاند یہ سارے کے سارے اس کے انعام ہیں اور اگر ان انعامات کے بدلہ میں کوئی شکر کی بجائے سرکشی کرے تو پھر وہ دوسرا طریق یعنی عتاب اختیار کرتا ہے۔ اس کے آثار ہے۔ اس کے آثار میں طاعون زلزلے، دبائی بیماریاں وغیرہ ہیں۔ اور اگر کسی پر ان کا بھی اثر نہ ہو تو وہ بعض دوسری قسم کے عذاب نازل کرتا ہے ۔ جن سے بالآخر خدا تعالیٰ اپنی عظمت و جبروت کو منوا لیتا ہے۔ یہ انعام و عتاب فقط اس لئے ہوتے ہیں کہ مخلوق اپنے خالق کو پہچانے اور اس کا تقویٰ اختیار کرے ۔ تقویٰ کیا ہے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا : " تقومی ایک ایسی نعمت ہے کہ جس شخص کو حاصل ہو پھر وہ اس کے مقابل میں دنیا کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔ اور تقوی کی یہ مثال بہت ہی پیاری ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان نے کھلا چوغہ پہنا ہو اور اس کی راہ میں ہر دو طرف کانٹے ہوں اور وہ ان سے صاف دامن بچا کر نکل جائے۔ اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو دنیا کی آلائشوں سے بچاتا ہے تب وہ متقی ہو سکتا ہے "۔ اس کے بعد آپ نے تقوی کے تین درجے بیان کئے ہیں: تقویٰ کا پہلا درجہ صبر ہے۔