انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page xxii

انوار العلوم جلد 1 کریں۔ ۱۲ تعارف کتب (11) پہاڑی وعظ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ۱۹۱۱ء میں ڈلہوزی میں پنجاب کے ایک مشہور و معروف پادری مسٹر بینگن سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے پادری صاحب سے تثلیث کے موضوع پر گفتگو کی اور اسے پہاڑی وعظ کے نام سے جون ۱۹۱۱ء میں شائع کرا دیا ۔ ہے۔ آپ نے فرمایا : ” وہ گفتگو جو میرے اور پادری صاحب کے درمیان ہوئی۔ میرے ۔ ہوئی ۔ میرے خیال میں صراط مستقیم کے متلاشیوں کے لئے کسی صورت میں پہاڑی وعظ سے کم نہیں اور چونکہ احدا منتظمین ایک مسیحی صاحب ہیں۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بھی اس گفتگو کا نام " پہاڑی وعظ " ہی رکھوں"۔ (۱۲) گوشت خوری ۱۹۱۱ء میں آریوں نے اس بات پر بہت زور دینا شروع کیا کہ گوشت خوری سخت گناہ اور ظلم اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جولائی 1911ء میں گوشت خوری کے عنوان سے ایک مضمون تشهید الاذہان میں شائع کیا جو بعد میں ایک کتابچہ کی شکل میں بھی شائع ہوا۔ اس میں آپ نے اس بات کو ثابت کیا کہ ویدوں میں بھی جانوروں کی قربانی کا ذکر کا ذکر موجود ہے۔ اور یہ کہ اس زمانہ میں دوسرے جانوروں کا ہی نہیں گائے کا گوشت بھی کھایا جاتا تھا۔ آپ نے اپنے ریہ اس مؤقف کو مستند تاریخی حوالوں اور ہندوؤں کی قدیم کتابوں سے ثابت فرمایا۔ اس مضمون میں آپ نے نظام کائنات کو بطور ثبوت و دلیل پیش کیا اور فرمایا کہ اگر گوشت خوری اس لئے منع ہے کہ دوسرے جانوروں کی روحوں کو خواہ مخواہ تکلیف دی جاتی ہے۔ تو پھر تو پر میشور پر الزام آتا ہے کہ اپنے ایسے جانور پیدا ہی کیوں گئے۔ جن کی زندگی کا دارو مدار ہی صرف