انوارالعلوم (جلد 1) — Page 190
انوار العلوم جلد 1 ۱۹۰ نجات و سمبر 1909ء غور کر کے دیکھ لو چونکہ انسان میں اصل میں نیکی کا مادہ ہے اس لئے زیادہ تر کام اس دلیل عقلی کی نیکی کے ہوتے کی نیکی کے ہوتے ہیں مثلاً ایک شخص جس کو جھوٹا کہا جاتا ہے وہ دن بھر میں سینکڑوں تو سچ بولتا ہے ہاں ایک دو جھوٹ بھی بول لیتا ہے اور ان ایک دو جھوٹوں کی وجہ سے وہ جھوٹا کہلاتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس نے قانون فطرت کو توڑ دیا اور اصل راہ سے پھر گیا اس لئے جب انسان سچ بولتا ہے تو لوگ حیران نہیں ہوتے اور وہ ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے مگر جب کوئی جھوٹ بولے تو سب کے سب اسکی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا بکواس کرتا ہے۔ چنانچہ ہمارے آنحضرت ا نے اس مسئلہ کو کیا خوب ادا کیا ہے اللَّهُمَّ نَقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ جس سے معلوم ہوا کہ اصل میں انسانی دل سفید کپڑے کی طرح ہے اور پھر قرآن شریف میں بھی خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) یعنی انسان کے خصائل اور شنایا خدائے تعالیٰ کے اخلاق پر پیدا کئے گئے ہیں اور یہ بات بدیسی ہے جیسا کہ میں پچھلی مثال میں ثابت کر آیا ہوں کہ اصل نیکی ہے بدی صرف اعتداء کا نام ہے۔ جیسے کہ آنکھ دیکھنے کیلئے دی گئی ہے اور دیگر فوائد کیلئے عنایت کی گئی ہے اس کو بد نظری کے کام میں لانا یا کانوں کو غیبت کے سننے پر لگانا یا زبان سے بد گوئی کرنا۔ پس میں نے پوری طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ بدی اعتداء ہے۔ اب یہ ضرورت پڑے گی کہ یہ بات کس طرح معلوم ہو گی کہ صراط صراط مستقیم کیا ہے مستقیم کیا ہے اور کہ مستقیم کیا ہے اور کونسا ہے سو اول تو خود فطرت انسانی انسان کو اس کا پتہ دیتی ہے اور دوسرے اس کے پہچاننے کے لئے یہ سب سے عمدہ معیار ہے کہ جس قدر باتیں انسان کے دل میں تعظیم الہی پیدا کریں اور اس کو مخلوق کی شفقت پر مائل کریں اور فساد سے اس کا دل پھیر دیں تو وہ تو صراط مستقیم ہیں اور جو اس کے بر خلاف ہوں وہ سب گناہ اور بدیاں ہیں اور انہی احکام کے اظہار کے لئے شریعتیں آتی ہیں تاکہ خدائے تعالیٰ انسان کو اپنی رضاء کے تمام احکام بتارے اور وہ باخبر ہو جائے کہ کونسی راہیں کمی کی اور کونسی زیادتی کی ہیں اور کوئی كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قواما (الفرقان: ۶۸) کی راہیں ہیں پس معلوم ہوا کہ انسانی اعمال کو ٹھیک کرنے والی شریعت ہی ہے کیونکہ وہ انسان کو ان راہوں سے واقف کرتی ہے کہ جو مستقیم ہوتی ہیں کیونکہ انسان کو معرفت ہی ایک کام کے کرنے پر تیار کرتی ہے اور وہی دوسرے کام سے روکتی ہے مثلاً ایک شخص کو جب علم کی معرفت حاصل ہو اور وہ اس