انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 189

انوار العلوم جلد 1 ۱۸۹ نجات دسمبر 1909ء هَد نِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيمًا مِّلَّةَ إِبْراهِيمَ حَنِيفاً (سورة انعام : ۱۶۲) یعنی کہہ دے کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو صراط مستقیم کی ہدایت کی ہے جو کہ استوار اور بے کجی کی ہے اور ابراہیم کا طریقہ ہے جو اعتدال پر قائم رہنے والا انسان تھا پھر خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ قواناً عَرَبِيَّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ (الر (٢٩) الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ : وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا ( سورة کف : ٢) اور پھر سورہ فرقان میں فرماتا ہے عِبَادُ عِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجُهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا (الفرقان : ۲۴) یعنی ہمارے پاک بندے وہی ہیں کہ جو اپنی ایام زندگی کو جو کہ ان کو وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّو مَتَاعٌ إِلَى حِينِ (البقرہ:۳۷) کے حکم کے مطابق اس زمین پر گزارنے پڑتے ہیں اعتدال کے ساتھ گزارتے ہیں اور ان کی زندگی سکینت اور وقار کے ساتھ ہوتی ہے نہ تو تیزی سے کام لیتے ہیں اور نہ کمال سستی کو برتتے ہیں بلکہ تمام عمر فتنوں اور فسادوں سے بچتے رہتے ہیں اور اگر کوئی شریر جاہل ان سے بات کرتے ہیں اور جھگڑا بر پا کرنا چاہتے ہیں تو وہ درگزر کر جاتے ہیں۔ غرض کہ اول تو میں قرآن شریف نے گناہ کیلئے کون سے الفاظ استعمال کئے ہیں نے عقلاً ثابت کیا ہے کہ گناہ اصل میں راہ راست سے ادھر ادھر پھر جانے کا نام ہے اور پھر قرآن شریف کا مذہب بیان کیا ہے کہ قرآن شریف نے اس مسئلہ کو خوب حل کیا ہے چنانچہ ان آیات کے علاوہ جو میں اوپر درج کر آیا ہوں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن شریف نے جس قدر الفاظ گناہ کیلئے استعمال کئے ہیں وہ لغت عرب میں یا تو زیادتی کے یا کمی کے معنی دیتے ہیں چنانچہ اثم کے معنوں میں کمی مفہوم ہے جیسا کہ آئمہ عربی میں اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو ست چلتی ہو اور پھر جناح بھی جھک جانے اور اعتدال کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں اسی طرح ذنب زیادتی کے معنے دیتا ہے اور پھر اعتداء اور عصیان اور افراط و غیرہ سب الفاظ زیادتی اور شدت کے معنے دیتے ہیں پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسا کہ عقل انسانی چاہتی ہے قرآن شریف نے بھی گناہ کو راہ راست سے بڑھ جانے یا پیچھے رہ جانے سے تعبیر کیا ہے اور اصل پیدائش انسان کی نیکی اور تقویٰ پر رکھی ہے پس اب ہم پر کہ ہے پس اب ہم پر کوئی اعتراض وا نہیں ہو تا کہ خدا نے گناہ کیوں پیدا کیا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو چند صفات حسنہ ودیعت کر اوارو دار کے اسے ایک حد تک مقدرت دے دی کہ ان پر عمل کر کے مدارج ترقی حاصل کرے اب یہ اسکا اپنا قصور ہے کہ ان کے پورا کرنے میں کو تاہی کرے یا اعتداء کرے۔