انوارالعلوم (جلد 1) — Page 191
انوار العلوم جلد 1 191 نجات دسمبر 1909ء کے فوائد پر آگاہ ہو جائے تو خود بخود اس کے پڑھنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے چنانچہ جس قدر کوئی کسی نیک چیز کا عرفان حاصل کرے اسی قدر اس کی طرف زیادہ جھکتا ہے اور جس قدر کسی بد چیز کا عرفان حاصل : حاصل ہو اسی قدر بچتا ہے چنانچہ جس کو اچھی طرح سے زہر کے خواص پر واقفیت ہو وہ زہر کا پیالہ کبھی نہ پیئے گا اور جو آگ کی طاقت سے واقف ہو وہ کبھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا اور یہ جانتے ہوئے کہ اس بل میں سانپ ہے اور سانپ کے کاٹے سے کیا نقصان ہوتا ہے کوئی اس بل میں ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرے گا پس اصل چیز جو گناہوں سے انسان کو روک سکتی ہے وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور فضل کا جاذب ایمان ہے اور جیسے ایمان بڑھے گا ویسے ہی اعمال ہوں گے اور ایمان شریعت کو چاہتا ہے بے علم انسان کیلئے کوئی لاکھ اپنا سر پھوڑے یا کسی اور کو زہر دے دے لیکن اگر وہ آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ چلے گا اور اگر پہاڑ سے بے سامان کو دتا ہے تو ہڈی پہلی تڑوائے گا۔ پس چونکہ گناہ سے نجات ہی اصل نجات ہے جیسا کہ خود پادری میکلین صاحب نے اپنے لیکچر میں بیان کیا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اصل ذریعہ نجات کا فضل ہے اور اس کا جاذب ایمان اور اعمال تو ایمان کے ثمرات ہوں گے اور شریعت کاملہ کے بغیر کوئی چیز نجات کے لئے کافی نہیں ہو سکتی کیونکہ علم تام سے ہی انسان نیکی کرتا اور گناہ سے بچتا ہے یعنی راہ راست سے ادھر ادھر نہیں ہوتا پس جب فضل کے ساتھ علم تام ہو اور صراط مستقیم سے کامل واقفیت ہو تو ایسا انسان گناہوں سے بچ گیا اور ناجی ہوا کیونکہ عرفان کامل کے بعد گناہ سرزد نہیں ہو سکتا اور اس بات کو ہمارے حضور نے بھی لیا ہے جبکہ فرمایا کہ اگر تم کو وہ علم ہو جو کہ مجھ کو حاصل ہے تو تم ہنسو کم اور ردو زیادہ یعنی علم تام کے بعد انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ نیک لوگ ہوتے رہتے ہیں چنانچہ برخلاف پادری میکلین کے جو کہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی دنیا میں نیک نہیں ہوا اور نہ کسی نے دعوی کیا۔ ہمار ا ہادی فرماتا ہے قُلْ اِنَّنِي هَدْنِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (الانعام : ۱۷۲) بلکہ آپ کے اتباع کرام کی نسبت ارشاد ہے الشَّبِقُونَ الاَوَّلُونَ مِنَ الْعَهْجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبه : ۱۰۰) پھر بدری صحابیوں کی نسبت آیا ہے کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ( حم السجدة : (۴) یعنی اب تم اس قدر عرفان حاصل کر چکے ہو کہ اب تمہارا ہر ایک کام نیکی ہی ہو گا اور بدی سے تم بالکل محفوظ ہو گئے ہو اور تمہارے ذرہ