انوارالعلوم (جلد 1) — Page 183
اندار العلوم جلد 1 ۱۸۳ ہم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں پھر فرمایا ہے کہ تم لوگ امر بالمعروف کرد یعنی بنی نوع انسان کو ہمیشہ نیک باتوں کی طرف بلاتے رہو ۔ دیکھو اگر ایک شخص کے پاس کچھ روپیہ ہو اور وہ اپنے ایک بھائی کو جو سخت مصیبت میں مبتلا ہو وہ نہ دے تو دنیا اسے کسی قدر نا پسند کرتی ہے اور اس سے کس قدر نفرت کی جاتی ہے کیونکہ اس کے پاس ایک چیز تھی اور ربا اور بار چود اس کے اس نے اپنے بھائی کی جو اس چیز کا سخت محتاج تھا مدد نہ کی۔ اس کو تمام لوگ ذلیل سمجھنے لگتے ہیں پس اگر کسی شخص کے پاس روحانی خزانہ ہو یعنی سچاند ہب اس نے پالیا ہو تو کیوں وہ دوسروں کو ہدایت نہ کرے اگر وہ ہدایت نہ کرے گا اور لوگوں کو امر بالمعروف کرنے سے بخل یا سستی کرے گا تو وہ اس دنیاوی بخیل سے کہیں بد تر ہو گا کیونکہ ایک مالدار شخص نے اگر کسی بھائی کی مدد نہ کی تو اس کا اثر صرف چند گھنٹوں یا دنوں یا مہینوں یا سالوں تک ہو گا کیونکہ آخر موت کے بعد اس غریب کو ہر ایک دکھ سے نجات مل جائے گی لیکن اگر کوئی ہدایت پا کر ہدایت نہیں دیتا تو وہ اپنے بھائی کو ابد الآباد تک کے لئے ہلاک کرنا چاہتا ہے پس یہ اس دنیاوی بخیل سے کہیں بڑھ کر ہے پس انسان کو چاہئے کہ ہر وقت امر بالمعروف کر تا ر ہے اور جو ہدایت کا خزانہ اس کے پاس ہے اس سے اپنے بھائیوں کو محروم نہ رکھے ورنہ اس کا نام خدا کے حضور بخیلوں میں لکھا جائے گا اور جب دنیاوی مال کے بخیل کے لئے خدا فرماتا ہے کہ وہ کبھی ہدایت نہیں پاسکتا تو جانتے ہو روحانی مال کا بخیل کس قدر عذاب کا مستوجب ہو گا۔ یاد رکھو کہ دنیاوی بخیل بیچ سکتا ہے مگر روحانی بخیل کے دل پر جب مہر لگائی جاتی ہے تو وہ نہیں ٹوٹا کرتی۔ پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ حدود الیہ کی حفاظت کر د یعنی گناہوں سے بچو اور نیکیوں کو بھی اس حد تک کرو جہاں تک حکم ہے ایسا نہ ہو کہ بے موقعہ عبادت کر بیٹھو کیونکہ وہ بھی ہلاکت کا ذریعہ ہے دیکھو نماز کیسی ثواب کی چیز ہے لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر سورج چڑھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو وہ نماز اس کے لئے ہلاکت ہو جائے گی اور روزہ کسی قدر نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص ارادہ عید کے دن روزہ رکھتا ہے تو وہی روزہ اس کے لئے تباہی کا باعث ہو گا پس معلوم ہوا کہ ہر ایک کام اپنے وقت پر اچھا ہوتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ نیکی ہو یا بدی ہو حدود اللہ کا لحاظ ضرور رکھو کیونکہ انسان کا اصل مقصد تو خدا تعالیٰ کی خوشی ہے۔ نماز روزہ اگر یہی عبادتیں کسی اور طرح پر ہوتیں تو خدا کو خوش کرنے کے لئے انسان اسی طرح کرتا پس چونکہ خدا تعالیٰ ہی مقصود بالذات ہے اس لئے اس کی مقرر کردہ حدود سے آگے بڑھنا نہیں چاہئے۔ آخر میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی انسان نے اس پر عمل کیا اور دینی تجارت کے عہد نامہ